بلڈرز نے حکومت سندھ سے 10 ہزار ایکڑ زمین مانگ لی!

جو بھی بلڈر غیر قانونی تعمیرات میں ملوث ہے اس کے خلاف سخت سے سخت قانون بنایا جائے اور ان کے خلاف نہ صرف ایف آئی آر کا اندراج کیا جائے بلکہ اگر کوئی بلڈر 5 بار سے زائد بار ایف آئی آر کا مرتکب قرار پائے تو اس کا شناختی کارڈ اور پاسپورٹ بھی بلاک کردیا جائے۔

 

کراچی

پاکستان پیپلز پارٹی چیئرمن بلاول بھٹو زرداری کئ ہدایت پر قائم کی گئی بزنس فیسیلیٹیشن اینڈ کوآرڈینیشن کمیٹی برائے ہائوسنگ ٹائون پلاننگ سیکٹر کا اجلاس محکمہ بلدیات کے وزیر اور کمیٹی چیئرمن سعید غنی کی صدارت میں ہوا، جس میں ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈویلپرز کے چیئرمین حسن بخشی، وائس چیئرمین ذیشان، اسپیشل سیکرٹری لوکل گورنمنٹ عائشہ حمید، عثمان غنی، ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل ایس بی سی اے علی مہدی کاظمی، سنئیر ڈائریکٹر ماسٹر پلان حاجی احمد، ڈپٹی ڈائریکٹر اورنگ زیب و دیگر بھی شرکت کی۔

اجلاس میں سندھ سعید غنی نے کہا کہ ہماری اولین ترجیح عوام کو سستی، معیاری کے ساتھ ساتھ قانونی رہائش فراہم ہوسکے۔ انہوں نے کہا کہ 1000 گز تک کے انفرادی گھروں کی تعمیر کے لئے نقشوں کی منظوری 15 یوم میں کی جارہی ہے اور اگر اس میں کسی قسم کی کوئی رکاوٹ ہوتی ہے تو اسے بھی فوری طور پر دور کیا جارہا ہے۔

 

سعید غنی نے کہا کہ شہر میں غیر قانونی تعمیرات کی روک تھام سندھ حکومت کی اولین ترجیح ہے اور اس کے لئے قانون سازی بھی کی جارہی ہے۔ اس سلسلے میں وزیر قانون سے بات کی ہے کہ جو بھی بلڈر غیر قانونی تعمیرات میں ملوث ہے اس کے خلاف سخت سے سخت قانون بنایا جائے اور ان کے خلاف نہ صرف ایف آئی آر کا اندراج کیا جائے بلکہ اگر کوئی بلڈر 5 بار سے زائد بار ایف آئی آر کا مرتکب قرار پائے تو اس کا شناختی کارڈ اور پاسپورٹ بھی بلاک کردیا جائے۔

 

انہوں نے کہا کہ شہر میں خطرناک قرار دی جانے والی عمارتوں کے حوالے سے بھی سندھ حکومت قانون سازی کررہی ہے اور جو عمارتیں خطرناک قرار دی جاچکی ہیں ان کے مکینوں کو متبادل رہائش سمیت دیگر پر قانون وضح کیا جارہا ہے جبکہ تاریخی عمارتیں جو خطرناک قرار دی جاچکی ہیں اس حوالے سے بھی قانون بنانے کی ضرورت ہے۔ غیر قانونی تعمیرات میں کچھ بلڈرز ہی ملوث ہیں۔

 

اس موقع پر آباد کے چیئرمین حسن بخشی نے بلڈرز کو درپیش مسائل، ٹیکسز، نقشوں کی منظوری، زمینوں کے انفراسٹرکچر اور ان پر ترقیاتی کاموں کی تاخیر سمیت دیگر مسائل سے آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ کراچی سمیت سندھ بھر میں ہائوسنگ سیکٹر کو مضبوط کیا جائے تاکہ اس سے عوام کو اچھی اور سستی رہائش فراہم کی جاسکیں ساتھ ہی انہوں نے مطالبہ کیا کہ سندھ حکومت آباد کو 10 ہزار ایکڑ زمین فراہم کرے، جس پر ہم عوامی ہائوسنگ اسکیم کی تعمیر کرکے وہاں کم لاگت کے گھر اور فلیٹس کی فراہمی کرسکیں۔

 

انہوں نے کہا کہ ایس بی سی اے کا نظام مکمل ڈیجیٹلائز نہ ہونے کے باعث ہائی رائس عمارتوں کی تعمیر کے لئے نقشوں کے حصول میں درپیش مشکلات کا ازالہ کیا جائے اور زمینوں کا ڈیٹا ڈیجیٹلائز کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ شہر میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف ہم سندھ حکومت کو اپنا بھرپور تعاون کی یقین دہانی کرواتے ہیں اور ہمارا کوئی ممبر بھی اس میں ملوث ہوا تو ہم ان کے ساتھ نہیں کھڑے رہیں گے۔

بغیر پورا چہرا دکھائے لاکھوں فالوئرز بنانے والی لڑکی

پی آئی ڈی سی چوک سے درخت کٹوانے والوں کا کیا بنا؟

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے