دریائے سندھ کی پشتوں پر27 ارب خرچہ، پھر بھی پشتیں مضبوط نہ ہوئیں!

کراچی

وحید علی

حکومت سندھ کی جانب سے دریائے سندھ کی پشتوں کو مضبوط کرنے کے لیے 27 ارب روپے سے زائد رقم خرچ کردی دی ہے مگر پھر پشتیں مضبوط نہیں ہو سکی ہیں۔

محکمہ آبپاشی سندھ ہر سال دریائے سندھ کے پشتوں کو مضبوط بنانے کے لیے نئی اسکیمیں لا رہا ہے، جبکہ ان اسکیموں پر ہر سال اربوں روپے خرچ بھی کیے جاتے ہیں، لیکن اس کے باوجود پشتوں کو خطرہ بدستور قائم ہے۔

موجودہ صورتحال میں، جب ایک بار پھر دریائے سندھ میں 8 سے 11 لاکھ کیوسک پانی کا سیلاب آنے کا امکان ہے، تو کمزور پشتوں والے اضلاع میں عوام تشویش کا شکار ہو گئی ہے۔

لیکن محکمہ آبپاشی نے دریا کے پشتوں کو مضبوط کرنے کے لیے کتنا پیسا خرچ کیا ہے؟ اس بارے میں "سندھ لیکس” کے پاس موجود سرکاری دستاویزات کے مطابق، محکمہ آبپاشی سندھ نے 2010 کی شدید سیلاب کے بعد "سندھ فلڈ ایمرجنسی ری کنسٹرکشن پراجیکٹ فار بندز اینڈ کینالز” کے تحت جام شورو، ٹنڈو محمد خان، حیدرآباد، شہید بینظیرآباد، گھوٹکی، خیرپور، نوشہرو فیروز، مٹیاری، لاڑکانہ، دادو، سجاول، ٹھٹھہ، کشمور، سکھر اور شکارپور میں دریائے سندھ کے پشتوں پر 26 ارب 90 کروڑ 50 لاکھ روپے خرچ کیے ہیں۔

سرکاری دستاویزات کے مطابق، اس منصوبے کے لیے ایشین ڈولپمنٹ بنک سے 19 ارب 27 کروڑ 90 لاکھ روپے قرض لیا گیا، جبکہ حکومت سندھ نے اس پر 7 ارب 62 کروڑ 55 لاکھ روپے اپنی جانب سے خرچ کیے ہیں۔

اس کے علاوہ، سندھ حکومت کی جانب سے دریائے سندھ کے پشتوں کو مضبوط کرنے کے لیے دیگر اربوں روپے کی اسکیمیں بھی جاری ہیں۔

محکمہ آبپاشی نے لاڑکانہ ضلع میں نئوں ڈیرو کے قریب دریائے سندھ کے کمزور قرار دیے گئے "موریا لوپ بند” کو مضبوط بنانے کے لیے 2017 میں 98 کروڑ 20 لاکھ روپے کی اسکیم شروع کی، جو 8 سال گزرنے کے باوجود تاحال مکمل نہیں ہو سکی۔ اس اسکیم پر اب تک 56 کروڑ روپے خرچ ہو چکے ہیں۔

اسی طرح لاڑکانہ میں ہی "عاقل آگانی لوپ بند” کو مضبوط بنانے پر بھی 2010 سے کام جاری ہے، اور 5 سال پہلے 2020 میں صوبائی ترقیاتی پروگرام میں 61 کروڑ 69 لاکھ روپے کی ایک اسکیم رکھی گئی، جو کہ 5 سال گزرنے کے باوجود مکمل نہیں ہو سکی۔ اس اسکیم پر 5 سال میں 36 کروڑ روپے خرچ کیے گئے ہیں۔

دادو ضلع میں "ایف پی بند” بھی ہمیشہ خطرے میں رہا ہے، جس پر بھی گزشتہ 15 سالوں سے کام جاری ہے۔ دستاویزات کے مطابق، محکمہ آبپاشی نے 4 سال قبل 2021 میں 70 کروڑ 15 لاکھ روپے کی "اسٹون پچنگ” اسکیم پیش کی، جس پر 20 کروڑ روپے خرچ دکھائے گئے ہیں۔

سیہون شریف کے قریب "آمری”، "کلری”، "وڈا گائينچا” اور دیگر مقامات پر بندوں کو مضبوط بنانے کے لیے 10 کروڑ روپے کی اسکیم بھی گزشتہ سال سے جاری ہے۔ جامشورو اور حیدرآباد اضلاع میں دریا کے دونوں طرف پشتوں کو مضبوط بنانے کے لیے گزشتہ سال 67 کروڑ روپے کی اسکیم شروع کی گئی، جس پر ڈیڑھ سال میں 10 کروڑ روپے خرچ کیے گئے ہیں۔

ٹھٹھہ–سجاول "دُولہا دريا خان پل” کے قریب بائیں جانب پانی کے دباؤ کو کم کرنے کے لیے "جی- اسپرز” تعمیر کرنے کی 3 ارب 77 کروڑ روپے کی اسکیم 2021 میں پیش کی، جو کہ ساڑھے 3 ارب روپے خرچ اور 4 سال گزرنے کے باوجود تاحال مکمل نہیں ہو سکی۔

برسات اور بھارتی آبی جارحیت نے پاکستانی پنجاب کو ڈبو دیا

ایک ہفتے کے اندر فٹ پاتھ خالی کرانے والے حازم بھنگوار سے اے سی صدر کا چارج کیوں واپس لیا گیا؟

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے