سندھ میں بچے تیزی سے ایچ آئی وی کا شکار ہونے لگے، 568 نئے کیسز سامنے آ گئے!

میرپورخاص ضلع میں سب سے زائد 150 بچے ایچ آئی وی کا شکار ہوئے، اس سے پہلے سب سے زیادہ کیسز لاڑکاںہ میں رپورٹ ہوئے تھے، سال 2024 میں وہاں 37 بچوں کی ایچ آئی وی ٹیسٹ مثبت آئی ہے۔

کراچی

پاکستان کے صوبہ سندھ میں کم عمر بچوں میں ایچ آئی وی تیزی سے پھیلتی جا رہی ہے، سست رفتار ٹیسٹنگ کے باوجود ہر ماہ سندھ میں کم سے کم 48 بچوں کے ایچ آئی وی ٹیسٹ مثبت آ رہے ہیں۔

سندھ لیکس کے پاس موجود سرکاری ڈیٹا کے مطابق سندھ میں گزشتہ سال2024 میں 568 بچوں کے ایچ آئی وی کیسز مثبت آئے، جن میں 26 فیصد سے زائد بچے میرپورخاص ضلع سے ہیں۔ جس سے سندھ میں صحت کے بڑھتے ہوئے بحران کے بارے میں خدشات میں اضافہ ہوا ہے، کیونکہ صوبے میں اوسطاً ہر ماہ 48 بچوں ایچ آئی وی ٹیسٹ مثبت آ رہے ہیں۔

محکمہ صحت سندھ کے حکام کے مطابق، 2024 میں صوبے بھر میں مجموعی طور پر 568 بچوں میں ایچ آئی وی کی تشخیص ہوئی، جن میں میرپورخاص سے 78 لڑکے اور 72 لڑکیاں شامل ہیں۔ جس سے خدشا ہے کہ علاقے میں مزید بچے ایچ آئی وی متاثر ہو سکتے ہیں۔

2019ع میں سندھ میں لاڑکانہ کے شہر رتوڈیرو میں بچے ایچ آئی وی کا شکار ہونے کا انکشاف ہوا تھا، مگر اب یہ وائرس میرپورخاص کے بچوں میں بھی پھیل رہا ہے۔

سال 2024 میں لاڑکانہ، جہاں 52 لڑکے اور 35 لڑکیاں ایچ آئی وی میں پائے گئے، شکارپور (27 لڑکے اور 19 لڑکیاں)، حیدرآباد (36 لڑکے اور 25 لڑکیاں)، اور جیکب آباد (23 لڑکے اور 15 لڑکیاں) شامل ہیں۔

سندھ، جو پاکستان کا دوسرا سب سے زیادہ ایچ آئی وی سے متاثرہ صوبہ ہے، میں سال 2024 میں 3,446 نئے ایچ آئی وی کیسز رپورٹ ہوئے۔

ڈاکٹر فیصل محمود، جو آغا خان یونیورسٹی ہسپتال میں انفیکشیس ڈیزیز ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ ہیں، نے دی نیوز کو اس سلسلے میں بتایا کہ بچوں میں ایچ آئی وی کی بڑھتی ہوئی شرح کی وجہ انفیکشن کی روک تھام اور کنٹرول (IPC) میں کمی بتاتے ہیں، اور وہ یہ بھی بتاتے ہیں کہ سندھ کے دیہی علاقوں میں ڈاکٹرز اور جعلی ڈاکٹروں کے ذریعے سرنجز اور آئی وی ڈرپس کا دوبارہ استعمال ایچ آئی وی کے منتقلی سب سے بڑا سبب ہے۔

"ڈاکٹرکے مطابق جب وہ ان بچوں کے والدین کا ٹیسٹ کرتے ہیں، تو اکثر ان کا ٹیسٹ منفی آتا ہے، اور کئی بار ان کے دوسرے بہن بھائی بھی ایچ آئی وی کے لیے منفی پائے جاتے ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کمزور آئی پی سی اور غیر محفوظ انجیکشنز کی پریکٹسز بچوں میں ایچ آئی وی کی منتقلی کا اہم سبب ہیں،”

جبکہ کراچی شہر بدستور سب سے زیادہ متاثر شہری مرکز ہے، جہاں 2024 میں 969 نئے ایچ آئی وی کیسز رپورٹ ہوئے۔ اور کراچی جنوبی ضلع میں سب سے زیادہ کیسز (184) رپورٹ ہوئے ہیں۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری طور پر حفاظتی تدابیر نہیں اپنائی گئیں تو میرپورخاص جلد ہی لڑکانہ جیسے پھیلاؤ کا سامنا کر سکتا ہے، جہاں ایک مختصر مدت میں 900 سے زائد بچوں میں ایچ آئی وی کی تشخیص ہوئی تھی۔

حکومت سندھ کا ان فٹ گاڑیوں کے خلاف کریک ڈاؤن شروع

سیپا کراچی میں فضائی آلودگی پر ضابطہ لانے میں ناکام

One thought on “سندھ میں بچے تیزی سے ایچ آئی وی کا شکار ہونے لگے، 568 نئے کیسز سامنے آ گئے!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے