رپورٹ: وحید علی
پاکستان میں غیر معمولی بارشوں اور بھارتی آبی جارحیت کے بعد صوبہ پنجاب کے مختلف علاقوں میں سیلابی صورت حال پیدا ہو گئی ہے، جس کے بعد حکومت نے 8 اضلاع سیالکوٹ، نارووال، حافظ آباد، سرگودھا، لاہور، قصور، اوکاڑہ اور فیصل آباد میں مدد کے لیے فوج کو بُلا لیا ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹننٹ جنرل احمد شریف چوہدری، وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ، اورچیئرمین این ڈی ایم اے نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں جاری ہیں، امدادی کارروائیوں کے دوران پاک فوج کے 2 جوان شہید اور 2 زخمی ہوئے۔
وفاقی وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ ملک کے 3 دریاؤں چناب، راوی اور ستلج میں اس وقت سیلابی صورتحال ہے، دریائے ستلج میں گندھارا سے ہیڈ خانکی کی طرف پانی کا بہاؤ بڑھ گیا ہے اور اس وقت 10 لاکھ کیوسک کا ریلہ موجود ہے جب کہ قادر آباد کی طرف پانی کا بہاؤ بڑھے گا، جس کے وجہ سے اس مقام سے لوگوں کا انخلا ناگزیر ہوگیا ہے۔
چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں 300 ملی میٹر سے زیادہ بارش ہوئی جسے ہم رات سے مانیٹر کرتے رہے، اسی طرح سیالکوٹ کے شمالی اور مشرقی علاقوں میں 600 ملی میٹر سے زائد بارش ہوئی۔

دریائے چناب میں خانکی ہیڈورکس پر شدید سیلاب
لاہور، سیالکوٹ، گوجرانوالہ، نارووال میں مزید بارشیں متوقع ہیں، خانکی اور قادر آباد کے درمیان مزید طغیانی آئے گی، ترجمان این ڈی ایم اے نے کہا کہ شدید سیلابی ریلے کے باعث ہیڈ ورکس کے ہائیڈرولک ڈھانچے کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ دریائے ستلج کے اطراف 2 لاکھ افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے۔ آنے والے دنوں میں ہم سندھ حکومت کے ساتھ بھی معلومات شیئر کریں گے، کوٹری یا گدو بیراج پر جو دباؤ آئے گا اور اسی طرح وہ علاقے جن میں انخلا کی ضرورت ہوگی، وہ ڈیٹا پی ڈی ایم اے سندھ کے ساتھ بھی شیئر کیا گیا ہے۔

ہیڈ خانکی پر پہلی بار10 لاکھ کیوسک پانی کا ریلا
محکمہ آبپاشی پنجاب کے سب انجینئر شیراز چٹھہ کے مطابق ہیڈ خانکی سے پہلی بار 10 لاکھ کیوسک پانی کا ریلا گزر رہا ہے۔ 2014 میں ہیڈ خانکی سے9 لاکھ 27 ہزار کیوسک پانی گزرا تھا۔ دریائے ستلج میں پانی کی سطح مسلسل بلند ہو رہی ہے، دریائے ستلج کے اطراف کے علاقوں کو خالی کرنے کے احکامات جاری کر دیا گیا ہے۔
دریائے راوی میں اونچے درجے کے سیلاب کا خطرہ
ادھر ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ دریائے راوی میں اونچے درجے کے سیلاب کا خطرہ موجود ہے، ممکنہ سیلاب کے پیش نظر نشیبی علاقوں کی آبادی کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت کی گئی ہے۔ ڈپٹی کمشنر کے مطابق فلڈ فور کاسٹنگ ڈویژن نے ہیڈ سدھنائی کے لیے سیلابی وارننگ جاری کر دی۔
ریسکیو حکام کے مطابق دریائے راوی میں ہیڈ بلوکی کے مقام پر پانی کی سطح مسلسل بلند ہو رہی ہے۔ فلڈ ریلیف کیمپس قائم کرکے اہلکاروں کی چھٹیاں منسوخ کر دی ہیں۔ متاثرہ علاقوں سے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔
دریائے راوی میں جسڑ کے مقام پر پانی کا بہاؤ 2 لاکھ 29 ہزار کیوسک ہے۔ شاہدرہ کے مقام پر درمیانے درجے کا سیلاب ہے۔ بلوکی ہیڈورکس پر درمیانے درجے کا سیلاب ہے جہاں پر پانی کی آمد 79 ہزار کیوسک ہے۔
ڈی جی پی ڈی ایم اے پنجاب نے کہا کہ دریائے ستلج میں گنڈا سنگھ والا کے مقام پر اونچے درجے کا سیلاب ہے۔ گنڈا سنگھ والا کے مقام پر پانی کا بہاؤ 2 لاکھ 45 ہزار کیوسک ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہیڈ سلیمانکی کے مقام پر درمیانے درجے کا سیلاب ہے، ہیڈ سلیمانکی کے مقام پر پانی کا بہاؤ ایک لاکھ کیوسک ہے۔

دریائے سندھ میں تونسہ بیراج پر نچلے درجے کا سیلاب
دریائے سندھ میں تونسہ بیراج پر پانی کے بہاؤ میں اتار چڑھاؤ جاری ہے۔
محکمۂ آبپاشی کے مطابق تونسہ بیراج پر نچلے درجے کا سیلاب ہے۔ تونسہ بیراج پر پانی کی آمد 4 لاکھ 45 ہزار 197 کیوسک جبکہ پانی کا اخراج 3 لاکھ 27 ہزار 697 کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے۔
فلڈ کنٹرول روم کے مطابق دریائے سندھ میں کوٹ مٹھن پر 3 لاکھ 5 ہزار کیوسک کا ریلا گزر رہا ہے، دریائے سندھ میں نچلے درجے کا سیلاب ہے۔
سیلاب سے پاکستان میں کون، کون سے علاقے زیادہ متاثر ہوئے ہیں؟
پنجاب کے شہر سیالکوٹ میں غیر معمولی بارش کے بعد کئی علاقے زیر آب آ گئے تھے۔ ضلعی انتظامیہ کے مطابق 133 دیہات بھی متاثر ہوئے ہیں۔ دریائے راوی میں جموں و کشمیر سے آنے والے چند نالوں کے پانی سے پاکستان کے ضلع نارووال کے درجنوں دیہات بھی زیرِ آب آ گئے ہیں۔
مقامی افراد اور ریسکیو اہلکاروں کے مطابق دریائے راوی میں سیلابی صورتحال کے باعث نارووال کے لگ بھگ 40 چھوٹے بڑے گاؤں زیرِ آب ہیں۔ جبکہ نارووال سے شکر گڑھ جانے والی سڑک کا بھی چار کلومیٹر تک کا حصہ سیلابی پانی میں ڈوب چکا ہے۔ جبکہ اس کے آس پاس کے دیہات مکمل زیرِ آب ہیں۔
جموں و کشمیر سے آنے والے نالوں کی وجہ سے نارووال کی تحصیل ظفر وال میں درجنوں دیہات زیرِ آب ہیں۔ یہاں موجود ایک بڑا قصبہ ‘کنجروڑ’ جس کی آبادی بیس ہزار کے لگ بھگ ہے، کو اس وقت شدید سیلاب کا خطرہ ہے۔
دریائےِ راوی میں سیلابی صورتحال شیخوپورہ، ننکانہ صاحب اور اوکاڑہ کو بھی متاثر کر رہی ہے، جبکہ اسی دریا نے فیصل آباد کے علاقے تاندلیاوالہ اور ضلع ساہیوال کو بھی متاثر کیا ہے۔
روای کے سیلابی پانی سے ہیڑے، جٹاں داواڑہ، نواں کوٹ، خزرہ آباد اور لالو آنہ کے علاقے متاثر ہوئے ہیں۔ اسی طرح شیخ داٹول، گجراں دا ٹھٹہ، کھوہ صادق، ڈیرہ حاکم، ڈیری مہر اشرف کی آبادیاں بھی شدید متاثر ہو رہی ہیں۔
اوکاڑہ کا موضع جندراکہ، جس کی آبادی 30 ہزار سے زائد ہے، جہیڈو اور جھنڈومنج میں بھی دریائے روای سے آنے والا سیلابی پانی داخل ہو چکا ہے۔ فیصل آباد کی تحصیل تاندلیانوالہ کا بھی دریائے راوی کی طغیانی سے متاثر ہونے کا امکان ہے۔
جبکہ راوی کے کنارے پر آباد سو سے زائد چھوٹی بڑی آبادیوں بشمول بستی جموں ڈولوں، جلی تریانہ، جلی فتیانہ، ماڑی پتن، شیرازہ، ٹھٹھہ ڈوکاں وغیرہ کے سیلاب سے متاثر ہیں۔

سیالکوٹ، منڈی بہاوالدین، سرگودھا، گجرات، وزیر آباد، حافظ آباد، چنیوٹ اور جھنگ متاثر
دریائے چناب سے متاثر ہونے والے اضلاع میں سیالکوٹ، منڈی بہاوالدین، سرگودھا، گجرات، وزیر آباد، حافظ آباد، چنیوٹ اور جھنگ شامل ہیں۔ ان اضلاع کی حد تک چناب کے پانی کی شدت تھوڑی زیادہ رہتی ہے۔
چناب کا پانی فی الوقت وزیر آباد شہر کو متاثر کر رہا ہے، اس کے علاقہ سوہدرہ کا علاقہ بھی شدید متاثر ہے۔ ڈسٹرکٹ سیالکوٹ کے شمال میں واقع علاقہ بجوات جو دریائے چناب اور دریائے توی کے وسط میں واقع ہے، سیلاب سے شدید متاثر ہے۔ اس میں لگ بھگ ستر کے قریب دیہات آتے ہیں۔ ریسکیو حکام کے مطابق سیالکوٹ شہر کو ان دیہاتوں سے ملانے والا راستہ مکمل طور پر زیر آب ہے۔
منڈی بہاؤ الدین کے علاقے قادر آباد، فرخ پور بھٹیاں، کالاشادیاں، باری، رنڈیالی، ملہیاں، جوکالیاں، کھسرلونگ، سعداللہ پور، کامونکی، چاڑکی، بھابڑا، لاکھا کدھر بھی زیرآب ہیں۔

لاہور ڈوبنے کی افواہیں
شاہدرہ لاہور سے آج رات پانی کا بڑا ریلا گزرے گا، توقع ہے کہ رات میں اس مقام پر پانی کی مقدار بڑھ کر 80 لاکھ کیوسک فٹ تک ہوجائے گی۔
چئیرمین کابینہ کمیٹی خواجہ سلمان رفیق نے راوی میں سیلابی صورتحال کے حوالے سے بتایا ہے کہ بھارت نے پانی چھوڑنے کے حوالے سے بروقت آگاہ نہیں کیا، تیاریاں مکمل ہیں، لاہور کے ڈوبنے کی افواہیں بے بنیاد ہیں۔
سمبڑیال میں 7 افراد سیلابی ریلے میں بہہ گئے
ضلع سیالکوٹ کے علاقے سمبڑیال میں سیلاب میں 50 دیہات ڈوب گئے، ایک سو دس محصور افراد کو ریسکیو کر لیا گیا۔۔ شدید طغیانی کے باعث لوگ اب بھی اپنے گھروں میں محصور ہیں۔ سمبڑیال علاقے میں ایک خاندان کے 5 افراد سمیت 7 لوگ سیلابی پانی میں بہہ گئے، جن میں 2 بچے اور باپ سمیت 3 افراد تاحال لاپتا ہیں جبکہ اہلیہ اور بیٹی سمیت 4 افراد کی لاشیں سیلابی ریلے سے نکال لی گئیں۔

گوردوارہ کرتار پور دربار بھی زیر آب
دریائے راوی میں سیلاب سے کرتار پور کوریڈور زیر آب آگیا ہے، سیلابی پانی گوردوارہ کرتار پور دربارمیں بھی داخل ہوگیا ہے۔ ضلعی انتظامیہ نے کہا ہے کہ کرتار پور دربار کے 1600 ملازمین کو ریسکیو کر لیا گیا ہے۔
وفاقی وزیر پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ احسن اقبال نے کہا ہے کہ نارووال تاریخ کے بدترین سیلاب کا سامنا کر رہا ہے۔ ہزاروں ایکڑ فصل تباہ ہوچکی، اربوں روپے کا نقصان ہوچکا ہے۔

حکومت سندھ کا سیلاب کی صورتحال پر اجلاس
پنجاب کت تینوں دریاؤن میں سیلابی صورتحال اور اس سلسلے میں انتظامات کے جائزے کے لیے وزیراعلی سندھ مراد علی شاھ کی صدارت میں ہنگامی اجلاس ہوا، جس میں گڈو اور سکھر بیراج پر پانی کی صورتحال سمیت پنجاب سے آنے والے 10 لاکھ کیوسک سے زاید سیلابی پانی سے پیدا ہونے والی امکانی صورتحال پر تبادلا خیال ہوا۔
