کے ایم سی عملدار ڈی جی پارکس جنید اللہ خان اور ڈائریکٹر خلیق الرحمن کے حکم پر دو ماہ قبل اشتہاری اسکرین لگانے
کے لیے سی ایم ہاؤس کے قریب پی آئی ڈی سی چوک سے 50 سال پرانے پیپل، نیم اور جیسمن کے درخت کاٹے گئے تھے۔
کراچی
ایم ڈی
سندھ لیکس کے پاس حاصل معلومات کے مطابق دو ماہ قبل کراچی میں کے ایم سی ے پارکس اینڈ ہارٹیکلچر ڈیپارٹمنٹ کے سابقہ ڈائریکٹر جنرل جنید اللہ خان اور ڈائریکٹر خلیق الرحمن کے حکم پر کے ایم سی کے عملداروں نے وزیر اعلیٰ ہاؤس کے قریب پی آئی ڈی سی چوک پر 50 سال پرانے پیپل، نیم اور جیسمن کے 8 درخت کاٹ ڈالے تھے۔ اس کے علاوہ خوبصورتی کے لیے وہاں نصب مونیومنٹ بھی توڑ دیا گیا تھا، اور وہاں رکھی ہوئی 2 لکڑی کی بینچیں اور ٹیبل بھی اٹھا لے گئے تھے۔
جس کا چیف سیکریٹری سندھ آصف حیدر شاہ نے سخت نوٹس لیتے ہوئے ڈی سی جنوبی کراچی الطاف ساریو کو انکوائری کا حکم دیا تھا اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی ہدایات جاری کیں تھیں۔ اس کے بعد نہ صرف ضلعی بلکہ ٹاؤن میونسپل کارپوریشن صدر کی انتظامیہ بھی متحرک ہوئی اور درخت کاٹنے کے خلاف سول لائن تھانے میں 8 سے 10 نامعلوم افراد کے خلاف کیس درج کیا گیا تھا۔
سابقہ ڈی سی جنوب کراچی الطاف ساریو نے چیف سیکریٹری کو درخت کاٹنے کے بارے میں انٹرنیم رپورٹ جمع کرائی جس کے مطابق درخت کاٹنے کے ذمہ دار کے ایم سی کے عملدار قرار دیے گئے۔ ڈی سی کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق درخت کاٹنے کا مقصد اشتہاری اسکرین لگانا تھا، جبکہ یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ اس عمل میں کے ایم سی کے عملدارشامل تھے۔
دوسری طرف ٹی ایم سی صدر کی انتظامیہ نے پی آئی ڈی سی چوک پر نصب مختلف سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیجز حاصل کیں، جن میں کے ایم سی کے ملازمین کو درخت کاٹتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ ڈی سی کی ابتدائی رپورٹ کے بعد چیف سیکریٹری سندھ کے حکم پر کے ایم سی نے ڈائریکٹر جنرل پارکس جنید اللہ خان اور ڈائریکٹر خلیق الرحمن کو عہدوں سے ہٹا کر رپورٹ کرائی گئی۔ جبکہ کے ایم سی کے ڈپٹی ڈائریکٹر مقبول احمد، اسسٹنٹ ڈائریکٹر محمد آصف، انسپکٹر خالد لطیف اور مالہ جہانگیر کو بھی معطل کیا گیا۔
دوسری جانب ٹی ایم سی صدر کے چیئرمین منصور شیخ نے پی آئی ڈی سی چوک پر درخت کاٹنے کو کے ایم سی کی صدر ٹاؤن میں غیر قانونی مداخلت قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہماری حدود میں درخت کاٹے گئے ہیں، رات کو پولیس نے ان کو روکنے کی کوشش کی لیکن کے ایم سی کے عملداروں نے پولیس کی نہیں سنی۔ ٹی ایم سی صدر کے ملازم نے بھی انہیں روکا لیکن وہ نہیں رکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے ایف آئی آر درج کرائی ہے، باقی کام کے ایم سی اور حکومت سندھ کا ہے۔
حیران کن صورتحال یہ ہے کہ کے ایم سی میئر مرتضیٰ وہاب اس معاملے پر پہلے دن سے خاموش ہیں، اور ایف آئی آر میں ابھی تک ملازمان کے نام شامل نہیں کئے گئے اور نہ ہی درخت کٹوانے میں ملوث افسران کے خلاف کوئی مزید کارروائی ہوئی ہے۔
ذرائع کا دعویٰ ہے کہ میئر کی اجازت کے بغیر کے ایم سی کے عملدار درخت نہیں کاٹ سکتے، نکہ میئر شہر میں اشتہاری بورڈ لگانے میں دن بدن دلچسپی بڑھا رہے ہیں۔ وہ شہر کے تمام اہم چوراہوں پر اشتہاری اسکرین لگانا چاہتے ہیں، کیونکہ ٹھیکیدارایسی اسکرینز کی مزید مانگ کر رہے ہیں۔