وزیراعلیٰ سندھ کے ہیلی کاپٹر اور جیٹ جہاز کا بے جا استعمال، سالانہ 93 کروڑ خرچہ!

کراچی

وزیراعلیٰ  سندھ کے ایک ہیلی کاپٹرکا خرچہ دن بدن پڑھتا جا رہا ہے، کیوں کہ ہیلی کاپٹروزیراعلیٰ کے علاوہ بااثر وزرا اور سرکاری ملازمین بھی اسعتمال کر رہیں ہیں، اس لیے صرف ہیلی کاپٹر کا سالانہ خرچہ بڑھ کر40 کروڑ 52 لاکھ روپے ہو چکا ہے۔

سندھ لیکس کے پاس موجود سرکاری دستاویز کے مطابق حکومت سندھ کے ایک ہیلی کاپٹر کی دیکھ بھال اور آپریشنز کے لیے روان مالی سال کے بجٹ میں 40 کروڑ 52 لاکھ روپے کا بجٹ مختص گیا ہے،

دلچسپ بات یہ ہے کہ سندھ حکومت کے اس ہیلی کاپٹر کی دیکھ بھال اور آپریشن کے لیے 25 افسران سمیت 41 افسر اور ملازمین بھرتی کیے گئے ہیں، جن کی تنخواہوں، الاؤنسز اور ہیلی کاپٹر کی مرمت پر اتنی بڑی رقم خرچ ہو رہی ہے۔

دستاویزات کے مطابق ہیلی کاپٹر کے لیے ایک چیف پائلٹ سمیت 8 پائلٹس بھرتی کیے گئے ہیں، جبکہ 9 ٹیکنیشن، 2 ڈپٹی چیف انجینئر، ایک چیف انجینئر، ایک اسسٹنٹ ڈپٹی چیف انجینئر، ایک ڈائریکٹر، اسی طرح ایک ایک سیکشن آفیسر، اسسٹنٹ اور اسٹور آفیسر بھی بھرتی کیے گئے ہیں۔ ان 25 افسران کے علاوہ 16 افراد پر مشتمل دیگر عملہ بھی موجود ہے، جن میں 6 ڈرائیور، 3 نائب قاصد، 2 کمپیوٹر آپریٹرز شامل ہیں۔

سندھ حکومت کا یہ ہیلی کاپٹر ہے تو وزیراعلیٰ کے لیے مگر سندھ کے گورنر کو بھی اختیار ہے کہ وہ اسے استعمال کر سکتے ہیں، لیکن ذرائع کا کہنا ہے کہ سندھ حکومت کی جانب سے ہیلی کاپٹر گورنر کو استعمال کے لیے نہیں دیا جاتا۔

اس کے علاوہ سندھ حکومت کے پاس ایک لیئر جیٹ بھی ہے، جس کا سالانہ خرچ 43 کروڑ 38 لاکھ روپے ہو چکا ہے، جبکہ اس وی آئی پی فلائٹ کی دیکھ بھال اور آپریشنز کے لیے ایک چیف پائلٹ سمیت 4 پائلٹس بھرتی کیے گئے ہیں۔ دیگر افسران میں ایک کوالٹی مینیجر، ایک الیکٹریکل انجینئر، ایک ایئرکرافٹ انجینئر، ایک سیکشن آفیسر، ایک اسٹور آفیسر اور 29 افراد کا دوسرا عملہ شامل ہے۔ اس طرح ایئرکرافٹ کے لیے 38 افسران اور دیگر عملہ علیحدہ بھرتی کیے گئے ہیں۔

Screenshot

سندھ لیکس کے پاس دستیاب ثبوتوں کے مطابق حکومت سندھ کا ہیلی کاپٹر اور لیئر جیٹ نہ صرف وزیراعلیٰ بلکہ پیپلز پارٹی کی بااثر شخصیات اور وزرا بھی استعمال کرتے ہیں۔

جبکہ سندھ حکومت کا ہیلی کاپٹر اور جیٹ اکثر پیپلز پارٹی کی قیادت کے لیے پروٹوکول کے طور پر بھی استعمال ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ وزیراعلیٰ سندھ کا جہازسرکاری ملازمیںن بھی استعمال کر لیتے ہیں۔

جنوری 2025 میں سروسزجنرل ایڈمنسریشن اینڈ کوآرڈینیشن ڈپارٹمنٹ نے دو افسران سیکشن افسر سید فراز علی اور پروٹوکول افسر واجد شاہ کو اس الزام میں معطل کیا گیا تھا کہ دونوں افسران اپنی فیملی کو وزیراعلیٰ کے جیٹ میں سیر کرانے لے گئے تھے۔ دونوں افسران ابھی تک معطل ہیں۔

 

جبکہ سندھ حکومت کی جانب سے وزیراعلیٰ کے لیے نیا ہیلی کاپٹر خریدنے کے لیے روان سال کی بجٹ میں 4 ارب 93 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں۔ واضح رہے کہ سندھ حکومت کا یہ ہیلی کاپٹر اور لیئر جیٹ پہلے وزیراعلیٰ ہاؤس کے اخراجات میں شامل تھے، لیکن گزشتہ دو سالوں سے ان کے اخراجات سروسز، جنرل ایڈمنسٹریشن اینڈ کوآرڈینیشن ڈیپارٹمنٹ کے حوالے کیے گئے ہیں تاکہ وزیراعلیٰ ہاؤس کے اخراجات کم دکھائے جا سکیں۔

کراچی: نجی سوسائٹی میں کسٹم کا چھاپہ، 2 کروڑ مالیت کا گٹکا برآمد

 بحریا ٹاؤن کو ہزاروں ایکڑ زمین دلوانےمیں کون کون ملوث ہے؟

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے