حکومت سندھ کی ریسکیو 1122 کو سی ای او نے ذاتی کمپنی بنا دیا

محکمہ صحت سندھ کے سندھ انٹیگریٹڈ ایمرجنسی اینڈ ھیلتھ سروسز ریسکیو 1122 کے سی ای اے برگیڈیئر(ر) طارق قادر لاکھیر جب سے بھرتی ہوئے ہیں بیقاعدگیوں کے ہر روز نئے ریکارڈ بنائے جا رہے ہیں، بورڈ آف ڈائیریکٹرز نے 19 ایمبولینسز خریدنے کی منظوری دی مگر سی ای او نے آرڈر کینسل کر کے اپنے لیے ایک فارچونر اور 3 ڈبل کیبن ریوو خرید لیں۔

کراچی

سندھ انٹیگریٹڈ ایمرجنسی اینڈ ھیلتھ سروسز ریسکیو 1122 کے سی ای او طارق قادر لاکھیر کے اقدامات سے ایسے لگ رہا ہے جیسے وہ سرکاری ادارہ نہیں بلکہ اپنی ذاتی کمپنی چلا رہے ہیں۔

سندھ لیکس کے پاس موجود دستاویز کے مطابق ادارے کے بورڈ آف ڈائریکٹرز، جس میں وزیر صحت ڈاکٹرعذرا فضل پیچوہو چیئرپرسن، وی سی ڈاؤ یونیورسٹی ڈاکٹر محمد سعید قریشی، ڈی جی پی ڈی ایم اے سید سلمان شاھ، ڈاکٹر جنید رزاق، ایم پی ایم قاسم سراج سومرو اور محکمہ صحت کے سیکریٹری ریحان اقبال بلوچ شامل ہیں، نے ریسکیو 1122 کے لیے 18 ٹیوٹا ہائی لکس (ڈیکلیس ایمبولینسز) خریدنے کی منظوری دی تھی۔

لیکن سی ای او نے بورڈ آف ڈائیریکٹرز کا خریداری آرڈر 2264 مسترد کرکے نیا خریداری آرڈر 2758 جاری کیا، جس کے تحت صرف 9 ڈیکلیس ایمبولینسیں خریدیں گئیں اور باقی رقم سے انہوں نے اپنے لیے ایک ٹیوٹا فارچونر اور3 ٹیوٹا ہائی لکس ڈبل کیبن ریوو خرید لیں۔

ذرائع کے مطابق سی ای او کو ادارے کی طرف سے اپنے ذاتی استعمال کے لیے ایک ٹیوٹا سوک کار دی گئی تھی، لیکن اس نے غیر قانونی طریقے سے 3 ڈبل کیبن اور ایک فارچونر خرید کر ان میں سے فورچونر خود استعمال کیا ہے۔ جبکہ ایک ڈبل کیبن اپنے پروٹوکول میں استعمال کررہا ہے، اس کے علاوہ ادارے کی ایک یارِس اور کلٹس بھی اس  کے پاس ہے۔ اس طرح اس نے ادارے کی 4 قیمتی گاڑیاں اپنے قبضے میں رکھی ہیں۔

جبکہ جن 9 ڈیکلیس ایمبولینسوں کو خریدا گیا ہے، وہ سال گزرنے کے باوجود ابھی تک اسی حالت میں کھڑی ہیں۔ جن کی حالت دن بدن خستہ ہو رہی ہے۔

بورڈ آف ڈائریکٹرز کی منظوری کے بغیر یہ گاڑیاں خریدنے پر فرگوسن اینڈ کمپنی نے آڈٹ میں سخت اعتراضات اٹھائے ہیں۔ اسی طرح آڈٹ میں بورڈ آف ڈائریکٹرز کی منظوری کے بغیر تنخواہوں میں اضافے اور بونس کو بھی غیر قانونی قرار دیا گیا ہے۔

دستاویزات کے مطابق اکتوبر 2023 میں سی ای او نے 1 جولائی 2023 سے ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ کیا، جس کے باعث ادارے پر 22 کروڑ روپے کا اضافی بوجھ پڑا۔ فرگوسن اینڈ کمپنی کے مطابق پبلک سیکٹر کمپنیز کارپوریٹ گورننس رولز 2013 کے سیکشن 12 کے مطابق بورڈ کو ہیومن ریسورس کمیٹی تشکیل دینی چاہیے جو ملازمین کی بھرتیوںاور تربیت سمیت معاملات کو دیکھے،

لیکن ادارے نے ایسا نہیں کیا اور بورڈ آف ڈائریکٹرز کی منظوری کے بغیر ٹیلی کمیونیکیٹرز کی 75 فیصد، ایمرجنسی میڈیکل ڈسپیچرز کی 89 فیصد، سینئر نرسز کی 50 فیصد، وہیکل آپریٹرز کی 38 فیصد اور اسٹیشن سپروائزر کی 35 فیصد تنخواہیں بڑھا دی گئی ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ جو ملازمین جولائی سے ستمبر 2023 کے درمیان بھرتی ہوئے تھے، ان کی بھی تنخواہوں میں اضافہ کیا گیا۔ یعنی 3 ماہ پہلے بھرتی ہونے والوں کو سالانہ انکریمنٹ اور بونس دیا گیا۔ مزید حیران کن بے قاعدگی یہ ہوئی کہ سی ای او نے اپنی مراعات اور بونس کی بھی خود منظوری دی۔ جو عمل کمپنیز ایکٹ 2017 کی سیکشن 188 (سی) اور سیکشن 19 (1) کی خلاف ورزی ہے۔

 

اسی طرح سی ای او نے اپنی مرضی سے سیپرا رولز کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بھرتی ہونے کے فوراً بعد مالی سال 2023-24 میں جولائی سے جون تک دو مہینوں کے اندر 50 کروڑ روپے کی مختلف خریداریاں بغیر کسی ٹینڈر کے کی ہیں، جس میں اپنے پسندیدہ کمپنیوں کو فائدہ پہنچایا گیا ہے۔ جبکہ فرگوسن اینڈ کمپنی نے اپنی آڈٹ رپورٹ میں 6 کروڑ 35 لاکھ روپے کی اضافی دوائیں اور اسٹیشنری کی خریداری کا ذکر کیا ہے اور بتایا ہے کہ اس سامان کے لیے "ایجنگ رپورٹ” کا کوئی نظام نہیں ہے۔

ایک ہی بندہ ہیڈ آف ورکشاپ اور کمپنی کا ٹھیکیدار بھی۔!

سندھ لیکس کو بااعتماد ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ محکمہ صحت نے ایس آئی ای ایچھ ایس کو ریسکیو 1122 ایمبولینسیں چلانے کے بنایا تھا۔ جبکہ ادارے کی ان ایمبولینسوں کی مرمت اور دیکھ بھال کا ٹھیکہ ایک مشہور گاڑیوں کی کمپنی کو دیا گیا تھا، لیکن موجودہ سی ای او نے وہ معاہدہ ختم کر کے اپنی مرضی سے گاڑیوں کی مرمت کے لیے اپنا ایک ورکشاپ قائم کیا ہے۔

جبکہ ورکشاپ کا گاڑیوں کے ایک مقامی مکینک فرقان علی کوہیڈ بنایا گیا ہے۔ دستاویزات کے مطابق ایک طرف فرقان علی کو ورکشاپ کا ہیڈ بھرتی کیا گیا تو دوسری جانب اس کی کمپنیوں پرائم آٹوز اور کیو اے ٹریڈرز کو گاڑیوں کے سامان کی خریداری کے ٹھیکے بھی دیے گئے۔

اس عمل کی ادارے کے ایک سی ایف او نے سخت مخالفت کی اور وہ ملازمت چھوڑ کر چلا گیا۔ جس کے بعد فرقان علی کو ورکشاپ ہیڈ کے عہدے سے فارغ کردیا گیا اور اب وہ ادارے کے وینڈر اور ٹھیکیدار کے طور پر کام کر رہا ہے اور گاڑیوں کے سامان کی خریداری میں کروڑوں روپے کی ہیرا پھیری ہو رہی ہے۔

100 سے زائد ایمبولینسز ناکارہ ہو گئیں

کمپنی کے سی ای او نے گاڑیوں کی مرمت اور دیکھ بھال کے لیے ورکشاپ تو قائم کر دیا ہے، مگر اس کے باجود گاڑیوں کی مرمت نہیں ہو پا رہی، ذرائع کے مطابق ادارے کے پاس اس وقت 315 ایمبولینسیں ہیں، جن میں سے 100 سے زائد مختلف ٹیکنیکل فالٹس کی وجہ سے ناکارہ کھڑی ہیں۔ جبکہ ورکشاپ گاڑیوں کی مرمت کرنے میں ناکام نظر آ رہا ہے۔

ایک سال میں تین سی ایف او اور تین ہیڈ آف پروکیوئرمنٹ فارغ

ادارے میں کرپشن کے خوف کی وجہ سے 3 سی ایف او اور 3 ہیڈ آف پروکیورمنٹ تبدیل یا ملازمت چھوڑ چکے ہیں، ایس آئی ای ایچھ ایس میں بے قاعدگیوں اور کرپشن کی وجہ سے ایک سال کے دوران 3 چیف فنانشل آفیسرز محمد نعمان اگست 2023، عبدالرقيب ستمبر 2024، اور رئیس احمد ڈسمبر 2024 میں عہدہ چھوڑ گئے۔ اس وقت ایک کنسلٹنٹ سیف احمد کو سی ایف او کا چارج دیا گیا ہے۔

اسی طرح ہیڈ آف پروکیوئرمنٹ بھی تیزی سے تبدیل ہو رہے ہیں۔ ایک سال کے دوران 3 پروکیوئرمنٹ ہیڈز پرویز احمد اگست 2024، محمد علی ستمبر 2024 اور شرجیل احمد دسمبر 2024 میں عہدے یا نوکریاں چھوڑ چکے ہیں۔ اس وقت حاجی رئوف عہدے پر بٹھایا گیا ہے، جنہیں پروکیوئرمنٹ کا کوئی تجربہ نہیں ہے۔

ایس آئی ایچ ای ایس میں غیر ضروری کنسلٹنٹس کی بھرمار

اس حوالے سے سندھ لیکس کے پاس دستیاب معلومات کے مطابق ایجنسی ایس آئی ای ایچھ ایس ریسکیو 1122 میں غیر ضروری سفارش شدہ کنسلٹنٹس کی بھرمار شروع ہو گئی ہے۔ جبکہ عبداللہ شاہ انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنس سہون کے ایک ڈیپارٹمنٹ ہیڈ منصور علی سومرو کو بھی ایس آئی ایچ ای ایس میں کنسلٹنٹ بھرتی کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ادارے میں جی ایم کمیونیکیشن اور مکمل ٹیم ہونے کے باوجود ایک میڈیا کنسلٹنٹ مقرر بھی کیا گیا ہے۔ جس کو ایک ایم پی اے کی سفارش پر کنسلٹنٹ لگایا گیا ہے۔

پانی فروخت کرنی والے 30 برانڈز انسانی صحت کے لیے نقصاندار قرار

قدرتی آفات اور معاشی عدم استحکام کی وجہ سے چیلنجز مزید بڑھ گئے، وزیراعلیٰ سندھ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے