رپورٹ: وحيد علی
سندھ میں صحت کی سہولتوں کی بہتری، ماؤں اور بچوں کی صحت کو بہتر بنانے اور آبادی پر قابو پانے کے لیے عالمی بینک کا 23 کروڑ ڈالر کا پروگرام کرپشن کے باعث ناکام ہوگیا۔ اس ساڑھے 4 سالہ پروگرام کے متوقع نتائج 2 سال میں ہی ماند پڑ گئے۔ صحت کے محکمے میں عالمی بینک سے حاصل کی گئی 1 کروڑ ڈالر کی رقم میں خوردبرد کر کے پروگرام کو بے فائدہ بنا دیا گیا۔ عالمی بینک نے خریداریوں، منصوبے کے ترقیاتی مقاصد اور مانیٹرنگ سسٹم پر اعتراضات اٹھاتے ہوئے پروگرام کو غیر تسلی بخش قرار دیا ہے۔
کرپشن میں ملوث فنانشل مینیجر اورسول انجینئر دونوں کو نوکریوں سے برخاست کر دیا گیا ہے اور پروگرام ڈائریکٹر کو بھی عہدے سے ہٹا دیا گیا۔ اربوں روپے کے اس پروگرام کی قیادت اب ایک ڈپٹی پروگرام ڈائریکٹر کے ہاتھوں میں ہے۔
"سندھ لیکس” کی جانب سے حاصل کردہ معلومات کے مطابق، سندھ میں 392 ڈسپنسریاں، 97 آر ایچ سیز، 39 تحصیل اسپتال، 20 پبلک ہیلتھ اور سی ایم ڈبلیو اسکول، 4 ریجنل ٹریننگ انسٹی ٹیوٹس اور 121 سیلاب سے متاثرہ بی ایچ یوز کی تعمیر اور اپگریڈیشن کے لیے عالمی بینک اور اسلامی ترقیاتی بینک کا 23 کروڑ ڈالر سے زائد کا پروگرام "سندھ انٹیگریٹڈ ہیلتھ اینڈ پاپولیشن پروگرام 1000 ڈیز” 2 سال کی مدت کے باوجود کوئی خاطر خواہ نتائج دینے میں ناکام رہا۔
عالمی بینک نے 19 دسمبر 2022 کو پروگرام کی منظوری دی تھی اور 2023 میں اس کا آغاز بھی کیا گیا، مگر اس کے بعد بھی کوئی نمایاں نتائج سامنے نہیں آئے۔ عالمی بینک نے اس پروگرام کے لیے 23 کروڑ ڈالر کا قرض فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی، جبکہ اسلامی ترقیاتی بینک نے 5 کروڑ ڈالر سے زائد کا قرض دیا تھا۔
پروگرام شروع ہوتے ہی انتظامی قیادت کی عدم موجودگی کے باعث پروگرام پر اگست 2023 تک کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی۔ نگران حکومت کے آنے کے بعد نگران وزیر صحت ڈاکٹر سعد خالد نے پی اے ایس آفیسر رحیم بخش میتلو کو پروگرام ڈائریکٹر مقرر کیا۔ عالمی بینک نے اس پروگرام کے لیے 1 کروڑ ڈالر کی پہلی قسط جاری کی، جس کے بعد محکمہ صحت کا "سسٹم” حرکت میں آیا۔
لیکن پروگرام کے پہلے ہی سال میں فنانشل مینیجمنٹ آفیسر وجاہت حسین سومرو اور سول انجینئر احمد حسن کی کرپشن سامنے آئی، جس کے بعد دونوں کو نوکریوں سے برخاست کر دیا گیا۔ پروگرام ڈائریکٹر رحیم بخش میتلو کو بھی عہدے سے ہٹا دیا گیا۔ ذرائع کے مطابق، پروگرام کے مختلف حصوں میں کروڑوں روپے کی خریداریوں میں خوردبرد کی گئی، جس پر عالمی بینک نے اپنی سالانہ رپورٹ میں پروگرام کے کئی حصوں کو غیر تسلی بخش قرار دیا۔
عالمی بینک نے پروگرام کے 6 حصوں میں سے 4 کو غیر تسلی بخش قرار دیتے ہوئے پروگرام پر شدید تحفظات ظاہر کیے ہیں، جس کے بعد سندھ کے سیکریٹری صحت ریحان بلوچ اور پروگرام ڈائریکٹر ذیشان شیخ بھی پریشانی کا شکار ہیں، کیونکہ وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ نے عالمی بینک کی رپورٹ کے بعد پروگرام پر اپنی ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ اس کے باوجود، 2 سال کے دوران بی ایچ یوز، ڈسپنسریوں، تحصیل اسپتالوں اور آر ایچ سیز کی بحالی اور اپگریڈیشن کا کام ابھی تک شروع نہیں ہو سکا۔
اہم عہدوں پر من پسند بھرتیاں، کرپشن اور بدانتظامی کا انکشاف
سندھ میں صحت کے شعبے کے لیے "سندھ انٹیگریٹڈ ہیلتھ اینڈ پاپولیشن پروگرام 1000 ڈیز” میں کرپشن اور بدانتظامی کا انکشاف ہوا ہے، جہاں اہم عہدوں پر من پسند بھرتیاں کی گئیں اور کروڑوں روپے صرف تنخواہوں اور الاؤنسز پر خرچ کیے جا رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق، اس پروگرام کی موجودہ سرگرمیاں صرف مشاورتی خدمات تک محدود ہیں، جبکہ پروگرام مینجمنٹ یونٹ (PMU) کی ماہانہ مسواڑ، بجلی کے بلز اور پروگرام ڈائریکٹر سمیت دیگر اہم عہدوں پر بھرتی کیے گئے افسران اور ملازمین کی تنخواہوں پر لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں روپے خرچ ہو رہے ہیں۔ عالمی بینک نے پروگرام کو غیر تسلی بخش قرار دیتے ہوئے اس میں پیشرفت نہ ہونے کی رپورٹ دی ہے، لیکن جب پروگرام ڈائریکٹر ذیشان شیخ سے اس حوالے سے سوالات کیے گئے، تو انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔
کروڑوں روپے افسران کی قیمتی گاڑیوں پر خرچ کیے گئے
سندھ انٹیگریٹڈ ہیلتھ اینڈ پاپولیشن پروگرام 1000 ڈیز کے تحت اسپتالوں کی تعمیر کے بجائے کروڑوں روپے افسران کی قیمتی گاڑیوں پر خرچ کیے گئے۔ اس پروگرام کے لیے آرکیٹیکچرل اینڈ انجینیئرنگ سروی کونسٹلسنسی پر 42 کروڑ، ایمبولینسز کی خریداری پر ایک ارب 9 کروڑ 60 لاکھ، موبائل لیبارٹریز اور میڈیکل وینز پر 80 کروڑ 30 لاکھ، اور دیگر سامان جیسے پی ایم یو کی اسٹیشنری اور موٹر سائیکلوں کی خریداری پر لاکھوں روپے خرچ کیے گئے ہیں۔ ان گاڑیوں میں سے 5 کروڑ 74 لاکھ روپے کی ٹیوٹا ریوو اور یارس گاڑیاں بھی خریدی گئیں، جو پروگرام ڈائریکٹر ذاتی طور پر استعمال کر رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق، یہ ایمبولینسز ریسکیو 1122 کو دی گئی ہیں، لیکن ان قیمتی گاڑیوں کی خریداری نے پروگرام کے اصل مقصد سے انحراف کیا ہے۔
پروگرام کی ویب سائٹ کئی مہینوں سے غیر فعال
"سندھ انٹیگریٹڈ ہیلتھ اینڈ پاپولیشن پروگرام 1000 ڈیز” کے تحت تیار کی جانے والی ویب سائٹ اور سوشل میڈیا صفحات بھی گزشتہ کئی مہینوں سے غیر فعال ہیں۔ ویب سائٹ پر پروگرام ڈائریکٹر کے طور پر اب تک رحیم بخش ميتلو کا نام درج ہے، جبکہ گزشتہ 6 ماہ سے ویب سائٹ کو اپ ڈیٹ نہیں کیا گیا۔ اسی طرح، پروگرام کے لیے بنائے گئے فیس بک پیج پر بھی 9 مہینوں سے کوئی نئی معلومات نہیں دی گئی، جو کہ اس بات کا غماز ہے کہ پروگرام میں کوئی قابل ذکر سرگرمی یا پیشرفت نہیں ہو رہی۔