وفاق اور سندھ حکومت سندھ کی بیوروکریسی اور ٹھیکیداروں کے لیے آر بی او ڈی 2 منصوبہ کمائی کا ذریعہ بن چکا ہے۔ منچھر جھیل کو آلودگی سے بچانے کے لیے 2001 میں شروع کیا جانے والا آر بی او ڈی 2 منصوبہ 24 سال گذرنے کے باوجود بھی مکمل نہیں ہو سکا ہے۔
منصوبے کی لاگت 14 ارب سے بڑھ کر61 ارب 98 کروڑ ہوگئی ہے۔ 38 ارب 96 کروڑ 61 لاکھ روپے خرچ ہوچکے ہیں، لیکن ابھی تک منصوبے سے کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوا۔ ڈی جی آڈٹ نے بھی منصوبے میں اربوں روپے کی ہیرا پھیری کی تصدیق کر دی ہے۔
کراچی
وحید علی
سندھ لیکس کے پاس موجود سرکاری دستاویز کے مطابق 273 کلومیٹر آر بی او ڈی 2 منصوبہ 2001 میں شروع کیا گیا تھا، جسے 4 سالوں میں 2005 میں مکمل ہونا تھا، مگر 24 سال گزرنے کے باوجود بھی وہ مکمل نہیں ہو سکا ہے۔ منصوبے کی مالی سال 2001 میں تیار کی گئی پی سی ون کے مطابق اس کا تخمینہ 14 ارب روپے تھی، جسے 2005 میں نظرثانی کر کے 29 ارب 21 کروڑ روپے کیا گیا۔ جبکہ منصوبے پر 2016 میں دوبارہ نظرثانی ہوئی، اورتخمینہ بڑھا کر 61 ارب 98 کروڑ 50 لاکھ روپے کر دیا گیا۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق مالی سال 2001-2 میں وفاقی حکومت نے یہ منصوبہ شروع کیا تھا اوراس پر 5 سالوں میں 2 ارب 90 کروڑ روپے خرچ کیے گئے۔ 2005 میں ڈھائی ارب روپے خرچ ہوئے، اسی طرح 2006 میں 2 ارب 90 کروڑ، 2007 میں 3 ارب 90 کروڑ، 2008 میں 1 ارب 51 کروڑ، 2009 میں 1 ارب 5 کروڑ، 2010 میں 1 ارب 20 کروڑ، 2011 میں 1 ارب 65 کروڑ، 2012 میں 1 ارب 92 کروڑ، 2013 میں 2 ارب 45 کروڑ، 2014 میں 2 ارب 24 کروڑ اور 2015 میں 2 ارب 97 کروڑ روپے خرچ کیے گئے۔ جب کہ 2016 میں منصوبے پر ایک روپیہ بھی خرچ نہیں کیا گیا۔

اس کے بعد سندھ حکومت بھی منصوبے میں شریک ہوئی اور 7 ارب روپے دینے کا فیصلہ کیا۔ سال 2017 میں حکومت سندھ نے اپنے 3 ارب روپے سمیت ساڑھے 9 ارب روپے خرچ کیے، 2018 میں سندھ حکومت نے ایک ارب اور وفاق نے ساڑھے 7 ارب روپے جاری کیے مگر خرچ صرف 6 کروڑ 84 لاکھ روپے ہوئے۔ 2019 میں سندھ حکومت نے 3 ارب اور وفاق نے ساڑھے 4 ارب روپے جاری کیے مگر خرچ 13 کروڑ 59 لاکھ روپے ہوئے۔
اسی طرح 2020 میں وفاقی حکومت نے منصوبے کے لیے صرف 50 کروڑ روپے جاری کیے، جن میں سے 4 کروڑ 47 لاکھ روپے خرچ ہوئے۔ سرکاری دستاویزات کے مطابق سال 2022 تک منصوبے پر 38 ارب 96 کروڑ 61 لاکھ روپے خرچ ہوچکے ہیں۔ جب کہ 23 ارب روپے ابھی خرچ ہونے ہیں، لیکن منصوبہ ابھی تک 50 فیصد بھی مکمل نہیں ہو سکا۔
24 سال گزرنے کے باوجود منصوبہ ابھی تک مکمل نہیں ہو سکا، لیکن منصوبے میں اربوں روپے کی بے قاعدگیاں سامنے آئی ہیں۔ ڈی جی آڈٹ نے منصوبے کے 2001 سے 2022 تک کے اخراجات پر اسپیشل آڈٹ رپورٹ جاری کی ہے، جس میں انکشاف ہوا ہے کہ منصوبے پر خرچ کیے گئے 39 ارب روپے میں سے 6 ارب روپے کے کاموں کا ریکارڈ ہی غائب کر دیا گیا ہے۔ آڈٹ رپورٹ کے مطابق تنخوائوں کی مد میں 4 کروڑ 51 لاکھ، پاکستان ریلوے کو ادا کیے گئے 55 کروڑ، کنسلٹنٹس کو دیے گئے 13 کروڑ، ریسیٹلمینٹ کی مد میں خرچ کیے گئے 62 کروڑ، منچھر جھیل کے آر او پلانٹ پر خرچ کیے گئے 14 کروڑ، ایف ڈبلیو او کو 2006 سے 2015 تک فراہم کیے گئے 2 ارب 58 کروڑ اور زمین خریدنے کی مد میں خرچ کیے گئے ایک ارب 85 کروڑ روپے سمیت 6 ارب 2 کروڑ روپے کا ریکارڈ غائب کر دیا گیا ہے۔
آڈٹ رپورٹ کے مطابق 2017 میں منصوبے پر کام بند رہا، مگر اس کے باوجود انتظامیہ نے ورک چارجز کی مد میں 12 کروڑ 12 لاکھ روپے خرچ ظاہر کیے ہیں۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ 2007 میں پروجیکٹ ڈائریکٹر نے ایک کروڑ 38 لاکھ روپے کا لیبر ورک بل بنایا، جب کہ اس وقت لیبر کو الگ سے پگھاریں دی جا رہی تھیں۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ پروجیکٹ ڈائریکٹر نے 2017 سے 2019 تک 4 کروڑ 44 لاکھ روپے فیول کی مد میں خرچ کیے، حالانکہ کئی سائیٹ کی کئی جگہوں پر کام بند تھا اور پروجیکٹ ڈائریکٹر کے پاس اتنی گاڑیاں بھی نہیں تھیں کہ فیول پر اتنی رقم خرچ کی جا سکے۔
جبکہ پروجیکٹ ڈائریکٹر نے مختلف ٹھیکیداروں کو 78 کروڑ 31 لاکھ روپے اضافی رقم جاری کی، جو کام ٹھیکیداروں کے ذمہ تھا، لیکن انہیں اضافی رقم دی گئی۔ رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ 18 ارب روپے کے کام بغیر اوپن ٹینڈر کے کرائے گئے۔
آر بی او ڈی 2 منصوبے کے اسپیشل آڈٹ رپورٹ کے مطابق انتظامیہ نے 18 ارب، 7 کروڑ روپے کے ترقیاتی کام سن شہر، حیدرآباد اور ٹھٹہ میں کرائے، جن کی مجاز اختیاری پروجیکٹ ڈائریکٹر سے منظوری نہیں لی گئی۔ یہ ٹھیکے سیپرا رولز کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بغیر اوپن ٹینڈر کے دیے گئے۔
انتظامیہ نے 6 ارب روپے کے خرچوں کا ریکارڈ ہی غائب کر دیا ہے۔ 18 ارب روپے کے 84 ٹھیکے بغیر اوپن ٹینڈر کے من پسند کمپنیوں کو دیے گئے جیسے الراءِ کنسٹرکشن کمپنی، عطا محمد جتوئی، سیہواں انٹرپرائزز، حکیم چاچڑ، سچل کنسٹرکشن کمپنی، شیر محمد مگھری، ایم بی سی اینڈ سنز، شیراز ٹریڈرز، عطا محمد اینڈ کمپنی، پریتم داس اور دیگر۔
دستاویزات کے مطابق محکمہ آبپاشی کی سن ڈویژن میں اسٹیج 3 کے 6 ارب 11 کروڑ روپے کے 30 ٹھیکے ٹھیکیدار ایم بی سی اینڈ سنز کو دیے گئے، جبکہ حیدرآباد ڈویژن میں اسٹیج 3 کے 87 کروڑ روپے کے 5 ٹھیکے شیر محمد مغیری اینڈ کمپنی کو دیے گئے۔ ٹھٹہ ڈویژن کے اسٹیج 3 کے 11 ارب روپے کے 49 ٹھیکے مختلف کمپنیوں کو دیے گئے، اور یہ تمام ٹھیکے بغیر ٹینڈر کے دیے گئے۔ اس منصوبے کے وقت پر مکمل نہ ہونے کے باعث 32 ارب روپے کا اضافی خرچ ہو چکا ہے اور ابھی 23 ارب روپے مزید خرچ ہونے ہیں۔ مگر اس کے باوجود منچھر جھیل میں سیوریج کے گندے پانی کا بہاؤ جاری ہے۔