آئی جی جیلز قاضی نذیر کو “سسٹم” کیوں ہٹانا چاہتا ہے؟

کراچی

صوبائی وزیر محکمہ جیل علی حسن زرداری کے حکم پر محکمہ داخلہ نے آئی جی قاضی نذیر کو عہدے سے ہٹانے کے لیے سمری چیف سیکریٹری کو ارسال کی۔

چیف سیکریٹری سندھ آصف حیدر شاہ نے قانونی ماہرین اور سیکریٹری سروسز سے مشورہ کرنے کے بعد قاضی نذیر ہٹانے کی سمری مسترد کر دی

سندھ کی جیلوں میں "سسٹم” چلانے والوں نے آئی جی جیلز قاضی نذیر احمد کو رکاوٹ قرار دے دیا ہے۔ "سسٹم” کے حکم پر محکمہ داخلہ نے قاضی نذیر کو ہٹانے اور جونیئر ڈی آئی جی حسن سہتو کو آئی جی جیلز مقرر کرنے کی سمری چیف سیکریٹری کو بھیج دی تھی۔ قاضی نذیر جیل ڈپارٹمنٹ کے سب سے سینئر افسر ہیں اور عدالتی حکم کے تحت آئی جی مقرر کیے گئے ہیں۔ چیف سیکریٹری سندھ آصف حیدر شاہ نے سینئر افسر قاضی نذیر کو ہٹانے کی سمری مسترد کرتے ہوئے اسے محکمہ داخلہ کو واپس بھیج دیا، جس سے "سسٹم” مایوس ہو گیا ہے۔

سندھ لیکس” کی جانب سے حاصل کردہ معلومات کے مطابق، آئی جی جیلز سندھ قاضی نذیر احمد جیلوں کے اندر کام کرنے والے "سسٹم” کے لیے ایک بڑی رکاوٹ بن گئے ہیں، جس کی وجہ سے انہیں عہدے سے ہٹانے کی دوبارہ کوششیں کی جا رہی ہیں۔ جیل ڈپارٹمنٹ کے معتبر ذرائع کے مطابق، "سسٹم” کی جانب سے ڈی آئی جی جیلز کراچی حسن علی سہتو کو آئی جی جیلز بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس فیصلے کے تحت قاضی نذیر کو عہدے سے ہٹانے اور حسن سہتو کو آئی جی جیلز مقرر کرنے کے لیے وزیر جیل خانہ جات علی حسن زرداری کی ہدایت پر محکمہ داخلہ سیکشن افسر پرزن (۱) کی جانب سے چیف سیکریٹری سندھ آصف حیدر شاہ کو سمری بھیجی گئی تھی۔

"سندھ لیکس” کو حاصل دستاویزات کے مطابق، محکمہ داخلہ کے پرزن سیکشن (1) کی جانب سے چیف سیکریٹری کو سمری بھیجی گئی کہ آئی جی جیلز قاضی نذیر احمد کو محکمہ داخلہ میں اسپیشل سیکریٹری (پرزن) مقرر کیا جائے اور حسن سہتو کو آئی جی جیلز بنایا جائے۔ تاہم، چیف سیکریٹری نے قانونی ماہرین اور سیکریٹری سروسز سے مشورہ لینے کے بعد یہ سمری مسترد کر دی، کیونکہ قاضی نذیر احمد سینیارٹی میں پہلے نمبر پر ہیں.

جب کہ حسن سہتو کا سینیارٹی میں پانچواں نمبر ہے۔ جبکہ قاضی نذیر نے اپنے عہدے کے دفاع میں سندھ ہائی کورٹ میں درخواست بھی دائر کی ہے۔ اس کے علاوہ، قاضی نذیر کو سندھ ہائی کورٹ کے حکم پر آئی جی جیلز مقرر کیا گیا تھا، کیونکہ نگران حکومت کے دوران اکتوبر 2023 میں انہیں پہلے بھی ہٹا کر جونیئر افسر ڈی آئی جی منور شاہ کو آئی جی جیلز کا چارج دے دیا گیا تھا۔ سیکریٹری سروسز کی اس بریفنگ کے بعد، چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ نے محکمہ داخلہ کی سفارش کو مسترد کرتے ہوئے اسے واپس بھیج دیا، جس کی وجہ سے جیلوں کے اندر "سسٹم” چلانے والوں میں مایوسی پھیل گئی ہے۔

مزید برآں، جیل ڈپارٹمنٹ میں "سسٹم” اور آئی جی جیلز قاضی نذیر کے درمیان کئی معاملات پر اختلافات بھی جاری ہیں۔ ذرائع کے مطابق، جیلوں میں ترقیاتی کاموں سمیت قیدیوں کے کھانے کے ٹھیکوں پر بھی تنازعات چل رہے ہیں۔ دوسری جانب معتبر ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ سندھ حکومت کے اہم محکموں میں "سسٹم” چلانے والے افراد آئی جی جیلز قاضی نذیر احمد کو عہدے سے نہ ہٹانے پر چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ سے ناراض ہیں، جس کی وجہ سے ان کے خلاف شکایات کی باقاعدہ مہم شروع کر دی گئی ہے۔

ذرائع کے مطابق، چیف سیکریٹری سندھ نے تقرریوں، تبادلوں اور ٹھیکوں میں "سسٹم” کے کئی کام روک دیے ہیں۔ اب "سسٹم” نے فیصلہ کیا ہے کہ چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ کے خلاف "بگ باس” کو شکایت کی جائے گی۔

آئی جیل قاضی نذیر اور صوبائی وزیر علی حسن زرداری کے معاملات ابھی تک ناخوشگوار ہیں، ذرائع کے مطابق قاضی نذیر کو ہٹانے کے لیے دیگر آپشنز پر بھی غور گیا جا رہا ہے، کیوں کہ ڈی آئی جی حسن سہتو کو سسٹم نے یقین دلایا ہے کہ جلد ہی قاضی نذیر کو ہٹانے کے لیے نیا رستا نکالا جائے گا۔

 

ملک ریاض ایم ڈی اے کے 5 ارب 28 کروڑ روپے کھا گئے

کراچی: نجی سوسائٹی میں کسٹم کا چھاپہ، 2 کروڑ مالیت کا گٹکا برآمد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے