ملیر ڈویلپمنٹ اتھارٹی (ایم ڈی اے) کی جانب سے 2016 سے بحریہ ٹاؤن کے ذمے 5 ارب 28 کروڑ روپے کے ڈیولپمنٹ چارجز کی عدم ادائیگی کا انکشاف ہوا ہے۔ بحریہ ٹاؤن انتظامیہ نے صرف 3 کروڑ روپے ادا کیے، جبکہ باقی رقم تاحال واجب الادا ہے۔
کراچی- رپورٹ: وحيد علی
ڈی جی آڈٹ سندھ کی جانب سے ملیر ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی لینڈ مینجمنٹ کے حوالے سے مالی سال 2016-17 سے 2020-21 تک کی اسپیشل آڈٹ رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ ایم ڈی اے کے بحریہ ٹاؤن پر ڈیولپمنٹ چارجز کی مد میں 5 ارب 31 کروڑ 92 لاکھ روپے بنتے ہیں، لیکن ایم ڈی اے نے صرف 3 کروڑ 76 لاکھ روپے وصول کیے ہیں۔ بقیہ 5 ارب 28 کروڑ 16 لاکھ روپے تاحال ادا نہیں کیے گئے۔ رپورٹ کے مطابق ایم ڈی اے کی بحریہ ٹاؤن کے خلاف واجب الادا رقم 4,696 ایکڑ زمین کے لے آؤٹ پلان کے تحت ہے، جو کہ 2016 سے بقایا ہے، لیکن ایم ڈی اے انتظامیہ خاموش ہے۔
تیسر ٹاؤن میں 4,345 ایکڑ زمین لینڈ مافیا کے قبضے میں
آڈٹ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ایم ڈی اے نے 2005 میں تیسر ٹاؤن اور 1997 میں نیو ملیر ہاؤسنگ اسکیم متعارف کروائی تھی، لیکن آج تک یہ منصوبے مکمل نہیں ہو سکے۔ انتظامیہ اب تک ان اسکیموں کو پانی، بجلی، اور گیس جیسی بنیادی سہولیات فراہم کرنے میں ناکام رہی ہے۔ اس کے علاوہ فلاحی مقاصد کے لیے مختص اسکولوں، اسپتالوں، مساجد، پارکوں، اور کھیل کے میدانوں پر بھی سہولیات فراہم نہیں کی گئیں۔
رپورٹ کے مطابق تیسر ٹاؤن میں مختلف کیٹیگریز میں 67,687 پلاٹ تھے، لیکن 10,320 پلاٹ اب تک الاٹ نہیں کیے جا سکے۔ کیٹیگری "ایل” میں 4,572، "آر” میں 5,155، اور "اے” میں 593 پلاٹ الاٹ نہیں کیے گئے۔ ایم ڈی اے انتظامیہ پلاٹوں کی الاٹمنٹ میں بھی ناکام رہی ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایم ڈی اے نے یوٹیلیٹی چارجز کی مد میں 2 ارب 39 کروڑ 18 لاکھ روپے وصول کیے، مگر پانی، بجلی، اور گیس فراہم نہیں کی گئی۔
اسپیشل آڈٹ رپورٹ کے مطابق ایم ڈی اے نے معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے 240 اور 400 گز کے 4,962 پلاٹ قرعہ اندازی کے ذریعے دیے، جبکہ معاہدے کے تحت صرف 80 اور 120 گز کے پلاٹ ہی قرعہ اندازی کے ذریعے دیے جانے تھے، جبکہ باقی پلاٹ نیلامی کے ذریعے فروخت کیے جانے تھے۔ نیو ملیر ہاؤسنگ اسکیم اور تیسر ٹاؤن اسکیم میں کار پارکنگ، ہیلتھ کیئر، پولی کلینک، ٹیلیفون ایکسچینج، پولیس اسٹیشن، بس اڈے، کچرا ڈمپنگ اور پبلک ٹوائلٹس کا بھی کوئی انتظام نہیں کیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق تیسر ٹاؤن میں 4,345 ایکڑ زمین لینڈ مافیا کے قبضے میں ہے، اور انتظامیہ زمین واگزار کرانے میں ناکام رہی ہے۔ تفصیلات کے مطابق تیسر ٹاؤن اسکیم 45 کے مختلف سیکٹرز میں سیکٹر 40، 41-اے میں 413 ایکڑ، سیکٹر 48 میں 89 ایکڑ، سیکٹر 34 اور 34-اے میں 233 ایکڑ، سیکٹر 42، 43، 44، اور 45 میں 857 ایکڑ، سیکٹر 47 میں 111 ایکڑ، 33-اے اور 33-بی میں 85 ایکڑ، سیکٹر 52 میں 62 ایکڑ، سیکٹر 25 اور 25-اے میں 121 ایکڑ، سیکٹر 7-بی میں 104 ایکڑ، اور سیکٹر 9، 9-اے، 9-بی، اور 9-سی میں 143 ایکڑ زمین پر قبضہ ہو چکا ہے۔
ڈی جی آڈٹ نے اپنی رپورٹ میں حکومت سندھ کو سفارش کی ہے کہ ایم ڈی اے کی رہائشی اسکیموں میں تاخیر کی تحقیقات کرائی جائیں، بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں، حسابات کا ریکارڈ مرتب کیا جائے، 240 اور 400 گز کے پلاٹوں کی نیلامی کی جائے، اور نجی بلڈرز کو دی گئی رعایتوں کی ریکوری کی جائے۔
ایم ڈی اے نے فلاحی پلاٹ بھی بااثر افراد کو الاٹ کردیے
ایم ڈی اے نے فلاحی مقاصد کے لیے مختص پلاٹ بھی مختلف اداروں اور بااثر افراد کو الاٹ کر دیے ہیں۔ شاہ لطیف ٹاؤن اور تیسر ٹاؤن میں فلاحی پلاٹ مدرسے، پاکستان آئل ٹینکر، پی ٹی سی ایل اور دیگر بااثر افراد کو الاٹ کیے گئے۔ اسپیشل آڈٹ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ایم ڈی اے انتظامیہ نے شاہ لطیف ٹاؤن اور تیسر ٹاؤن میں اسکول، اسپتال، پارک اور کھیل کے میدانوں کے لیے مختص پلاٹ مارکیٹ ریٹ سے بھی کم قیمت پر فروخت کیے۔
ایم ڈی اے کے بینک اکاؤنٹ میں 32 کروڑ کی بے ضابطگیاں
نیو ملیر ہاؤسنگ پروجیکٹ کے بینک اکاؤنٹ سے 32 کروڑ 75 لاکھ روپے دیگر بینک اکاؤنٹس میں منتقل کیے گئے، لیکن انتظامیہ اس رقم کے بارے میں کوئی وضاحت فراہم نہیں کر سکی۔ رپورٹ کے مطابق یہ رقم 68 مختلف ٹرانزیکشنز کے ذریعے منتقل کی گئی، جن کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں ہے۔
بحریہ ٹاؤن سے زمین کے تبادلے کا ریکارڈ غائب
ایم ڈی اے انتظامیہ نے بحریہ ٹاؤن سے زمین کے تبادلے کا ریکارڈ غائب کر دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ایم ڈی اے نے قیمتی زمین کے بدلے میں سستی زمین حاصل کی، جس سے قومی خزانے کو نقصان پہنچا۔ آڈٹ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایم ڈی اے کو بارہا تفصیلات فراہم کرنے کے لیے کہا گیا، مگر انتظامیہ تفصیلات دینے میں ناکام رہی۔