کراچی
لینڈ مافیا اور سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی ملی بھگت، سول لائنز کراچی میں 25 سال پہلے بنا اپارٹمنٹ خستہ حال ڈکلیئر کیا گیا، خالی کرانے کے لیے ضلعی انتظامیہ اور پولیس کا استعمال کیا گیا، 60 سے زائد فلیٹس توڑ دیے، مکینوں کو زبردستی گھروں سے نکالا گیا۔
ہوریزن اپارٹمنٹ (داؤدپوٹہ روڈ سول لائن، کراچی کینٹونمنٹ) کے مکینوں ذوالفقار تنولی، سرفراز خان، آسٹن، منوہر لال، پرکاش، علی، امین اور دیگر نے سندھ لیکس کو بتایا کہ یہ وہ بدنصیب عمارت ہے جو 1996 میں ایم/ایس پلازہ انٹرپرائزز پرائیوٹ لمیٹڈ نے پلاٹ نمبر 18/2/2 پر تعمیر کرنا شروع کی، جس کا نقشہ چودہ منزلہ ہے۔ 2001 میں چھے فلور مکمل ہوئے۔
سندھ بلڈنگ اتھارٹی سے منظور اس عمارت کا اچانک کام رک گیا، مگر جن لوگوں نے فلیٹ اور دوکان بک کرائے تھے انہوں نے الاٹمنٹ کے لیے شور مچانا شروع کیا۔ تو بلڈر نے مکمل پیمنٹ والوں کو سب لیز فائل دینا شروع کیے۔ 66 فلیٹس، شاپس اور میز نائن پر آفسز اونرز کے حوالے ہوئیں۔ باقی جن لوگوں نے چھٹے فلور سے اوپر بکنگ کرائی تھی وہ رل گئے۔
2011میں پی پی پی کی حکومت تھی، ایک رات اچانک تیس چالیس لوگ پولیس پروٹوکول میں پہنچے اور لوگوں کو فلیٹوں سے زبردستی نکالنا شروع کردیا۔ رات کو ہی گراؤنڈ فلور پر پورا سینٹر بند کرایا گیا، تمام شاپس کو بند کرکے شاپنگ سینٹر کی گیٹ کو دیوار لگائی گئی۔ بلڈنگ کی لفٹ کو توڑا گیا، بجلی بند کرائی گئی۔ 36 فلیٹوں سے لوگوں کو زبردستی نکال کر قبضہ کیا گیا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ قبضہ گروپ کے خلاف آرٹلری میدان تھانے اور سندھ ہائی کورٹ میں پٹیشن دائر کرائی گئی۔ جسٹس گلزار نے کیس سنا۔ ڈی جی رینجرز، آئی جی سندھ، ایڈوکیٹ جنرل سندھ اور ایس پیز کو بلایا گیا مگر کوئی نہیں آیا۔ عدالت نے بجلی بحال کرائی، اور عمارت میں خرید و فروخت پر پابندی عائد کی، چوبیس سال ہو گئے، کیس ابھی تک چل رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ لینڈ مافیا کے اعظم آفریدی اور پیر درویش نے قبضہ کیے گئے فلیٹس کرائے پر دے دیے جو ابھی تک ان کے پاس ہیں، دو سال قبل گراؤنڈ فلور کا سینٹر اور میز نائن کھول کر دوکان اور آفیسز کرائے پر دیے گئے، قبضہ گروپ کو بلاول ہاوس کی سپورٹ بتائی جاتی ہے، اپنی گاڑیوں پر وہ پی پی پی کا جھنڈا لگاتے ہیں۔
قبضہ گروپ کی سرپرست مافیا نے 2015 میں عمارت کی بیسمنٹ (پارکنگ ایریا) میں پانی چھوڑ دیا اور سیوریج لائین توڑ دی جس کی وجہ سے عمارت کو کافی نقصان پہنچا۔ اور عمارت کو گرانے کی منصوبہ بندی شروع کی گئی مگر احتجاج کے بعد تحریک انصاف کے رہنما سابق صدر عارف علوی بیچ میں آ گئے، اور بھی پی ٹی آئی رہنما آئے اور بیسمنٹ سے پانی نکالا گیا۔ عمارت کی مرمت ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ قبضہ گروپ کی سرپرست مافیا ہوریزن اپارٹمنٹ اور اس سے ملحق پلازہ ہوٹل کو گرا کر یہاں نیا پلازہ اور شاپنگ مال بنانا چاہتی ہے۔ اور اس مقصد کے لیے ایس بی سی اے کو استعمال کرکے عمارت کو خطرناک/ناکارہ قرار دیا گیا۔
بلڈنگ اتھارٹی نے ضلعی انتظامیہ اور پولیس کی مدد سے ایک ماہ قبل بلڈنگ جی بجلی اور گیس منقطہ کرادی، صرف 25 اونرز کے فلیٹس سیل کئے گئے۔ انہوں نے کہا کہ چودہ منزلہ بنیاد والی صرف چھے منزلہ عمارت کو چوبیس سالوں میں ناکارہ قرار دینے کا ایس بی سی اے نے انوکھا کارنامہ سرانجام دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بلڈنگ اتھارٹی کی نام نہاد ٹیکنیکل کمیٹی نے ایک وزٹ کیا اور اسی دن عمارت کو ناکارہ قرار دیا گیا، ڈی سی ساؤتھ حرکت میں آئے اور اب لوگوں کو زبردستی نکالا گیا ہے۔

ایس بی سی اے نے بلڈنگ کے 40 فلیٹس توڑ دیے ہیں، جبکہ پولیس کی مدد سے مکینوں کو زبردستی نکالا گیا اور ایس بی سی اے کا کہنا ہے کہ عمارت خستہ ہو چکی ہے، جبکہ مکینوں کا کہنا ہے کہ عمارت کمزور نہیں، لینڈ مافیا اور ایس بی سی اے کا گٹھ جوڑ ہے۔
مکینوں نے عدالت سے بھی رجوع کیا یے اور 5 مارچ کو شنوائی ہے، مگر ایس بی سی اے نے اس سے پہلے ہی عمارت کے فلیٹس توڑ دیے ہیں، جبکہ لینڈ مافیا کے قبضے میں موجود شاپنگ سینٹر اور میز نائن میں کوئی توڑ پھوڑ نہیں ہوئی، وہاں نہ صرف آفسز اور شاپس کھلے ہیں پر بجلی بھی بحال ہے۔
مکینوں کا کہنا ہے کہ کراچی شہر میں 572 عمارتوں کو ناکارہ قرار دیا گیا ہے جس میں سو سال پرانی عمارتیں بھی شامل ہیں، مگر ایس بی سی اے صرف اس عمارت کو نشانہ بنایا ہے، جس سے ان کی ملی بھگت سامنے ہے۔

ایس بی سی اے کی جانب سے بے گھر کیے گئے مکینوں میں کرسچن اور ہندو خاندان بھی ہیں، جبکہ لینڈ مافیا اتنی بااثر ہے کہ اب ان کو فلیٹوں سے اپنا سامان بھی اٹھانے نہیں دیا جا رہا، پولیس کی سرپرستی میں عمارت سے لوہا اور دیگر قیمتی اشیا چوری کی جا رہیں ہیں۔