بحریا ٹاؤن کو ہزاروں ایکڑ زمین دلوانےمیں کون کون ملوث ہے؟

کراچی

نیب نے ملک ریاض، ان کے بیٹے احمد علی، زین ملک، سابقہ وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ، وزیراطلاعات سندھ شرجیل انعام میمن، سابقہ سیکریٹری احمد بخش ناریجو، سابقہ سیکریٹری ثاقب سومرو، ایم کیو ایم رہنما جاوید حنیف، سابقہ ڈی جی ایم ڈی اے سہیل، سابقہ ڈی سی ملیر قاضی جان محمد سمیت 33 ملزمان کے خلاف سرکاری خزانے کو 708 ارب روپے نقصان پہنچانے کا ریفرنس دائر کردیا ہے۔ 

پی پی پی رہنماؤں اور بیوروکریٹس پر الزام ہے کہ انہوں نے 17000 ایکڑ سے زائد زمین غیرقانونی طریقے سے بحریا ٹاؤن کراچی کے مالک ملک ریاض کے ملازمین کو مختلف طریقوں سے الاٹ کی۔ 

قومی احتساب بیورو (نیب) کے ریفرنس کے مطابق سابقہ وزیرِاعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ، وزیراطلاعات اور ٹرانسپورٹ شرجیل میمن اوراس وقت کے بیوروکریٹس نے سرکاری زمین بحریہ ٹاؤن کراچی کو غیرقانونی طریقے سے منتقل کی۔ اس تمام کارروائی میں سندھ کے حکومتی اداروں بورڈ آف روینیو، ایم ڈی اے اور ملیر کی ضلعہ انتظامیا کے افسران نے اہم کردار ادا کیا۔

 

نیب نے تحقیقات کے دوران 33 افراد کو ملزم قرار دیا ہے۔ جن میں زیادہ تر بورڈ آف روینیو، ایم ڈی اے، ملیر ڈسٹرکٹ کے سابقہ افسران رہے ہیں۔ نیب ریفرنس میں کہا گیا ہے کہ ملزمان نے 2013 اور 2014ع میں 17,671 ایکڑ زمین "ایڈجسٹمنٹ/ایکسچینج/کنسولیڈیشن” کے نام پرغیر قانونی طور پر بحریہ ٹاؤن کے حوالے کی، جس سے قومی خزانے کو 708 ارب روپے کا نقصان پہنچا ہے۔

 ریفرنس میں سندھ بورڈ آف ریونیو کے سابقہ سینئر رکن احمد بخش ناریجو، سابقہ سیکریٹری لینڈ یوٹیلائزیشن ثاقب احمد سومرو، ایم ڈی اے کے اس وقت کے ڈائریکٹر جنرل محمد سہیل عرف بابو، سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے سابقہ ڈائریکٹر جنرل منظور قادر کاکہ، ایم ڈی اے کے سابقہ ڈائریکٹرز ضیاالدین صابر، اخترعلی میئو، صدیق ماجد، نشاط رضوی، شاہد حسن، مستفیض احمد، لینڈ اکیوزیشن افسرز ایم ڈی اے نثارقائمخانی، پرویز حنیف، سابقہ ڈی سی ملیرقاضی جان محمد، اس وقت کے اسسٹنٹ کمشنرز ملیر مختیارعلی ابڑو، عبدالرحمٰن ڈہر، اقبال میرانی، مختیارکارملیر سہیل میمن، طفیل خاصخیلی، میر محمد، شکیل رانا، بحریا کے ڈپٹی سی ای او فیصل قریشی، شاہد قریشی، ملک ریاض کے بھانجے وقاص رفعت، محمد اویس اور بی سی اے کے سابقہ ڈائریکٹر جنرل آغا مسعود عباس کو بھی ملزم نامزد کیا گیا ہے۔ 

بحریا ٹاؤن کراچی کو زمین الاٹ کرنے کے خلاف تحقیقات 2015 میں اُس وقت شروع ہوئے جب "بحریہ ٹاؤن کراچی” منصوبے کے لیے ملیر میں حکومت کی زمین کے غیر قانونی قبضے کی شکایات موصول ہوئیں تھیں، اور کہا جا رہا تھا کہ کئی گوٹھ مسمار کیے جا رہیں ہیں۔ تحقیقات 2016 میں مکمل تفتیش میں تبدیل کر دی گئی تھی، بعد ازاں معاملا سپریم کورٹ میں جانے کے باعث تحقیقات کو روک دیا گیا تھا۔

کس نے کب اور کون سی خدمات انجام دیں؟

نیب ریفرنس کے مطابق بحریا ٹاؤن کراچی کی کہانی اس وقت شروع ہوئی جب 25 جولائی 2013 کو ڈی جی ایم ڈی اے سہیل نے ملیر کی 43 دیہوں میں روڈ نیٹ ورک کی تیاری کے لیے ایک سمری تیار کی جو اس کا اختیار ہی نہیں تھا، اور یہ عمل ایم ڈی اے ایکٹ کے بھی خلاف تھا۔

19 سیپٹمبر 2013 کو ملیر ڈولپمنٹ اتھارٹی روائیول اینڈ امینڈنگ بل سندھ اسمبلی سے پاس ہوا، جس کے ذریعے قانون میں کنسالیڈیشن آف لینڈ کا سیکشن شامل کیا گیا، اور ٹھیک چھے دن بعد بحریا ٹاؤن کراچی کے اشتہارات میڈیا میں نمودار ہوئے، جن میں یہ نہیں بتایا گیا کہ ٹاؤن کہاں بنے گا!

نیب ریفرنس میں کہا گیا ہے کہ 5 نومبر 2013 کو لوکل گورنمنٹ ڈپارٹمنٹ نے ملیرکی 43 دیھوں کی فزیکل سروے اور روڈ نیٹ ورک کے لیے صوبائی وزیرشرجیل میمن کی سفارش پر ایک سمری اس وقت کے وزیرِ اعلیٰ سندھ قائم علی شاہ کوبھیجی، جس کی قائم علی شاہ نے اسی دن منظوری دے دی۔ جوعمل ایم ڈی اے ایکٹ کے خلاف ہے۔ اوراسی دوران بحریا ٹاؤن کے ملازمین نے دور دراز علاقوں میں زمینیں خریدنا شروع کردیں۔ جس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ ایک گٹھ جوڑ تھا۔ 

16 ڈسمبر 2013 کو ڈی جی سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی منظور قادر کاکا نے بحریا ٹاؤن انتظامیا کو بکنگ کی اجازت دے دی، جبکہ اس سے تین دن قبل ایس بی سی اے نے ہی بحریا ٹاؤن انتظامیا کوغیرقانونی تہشیراور بکنگ پر شوکاز نوٹس جاری کیے تھے۔ کیوں کے بحریا ٹاؤن کراچی انتظامیا بغیر لکیشن اور منظوری کے اشتہارات دے رہی تھی۔

 

26 ڈسمبر 2013 کو، سینئر ممبر بورڈ آف روینیو احمد ناریجو نے ایم ڈی اے ایکٹ کے خلاف ایک نوٹیفکیشن جاری کر کے 43 دیہوں کو ایم ڈی اے کی کنٹرولڈ ایریا قرار دیا اور وہاں روڈ نیٹ ورک کے لیے فزیکل سروے کے احکامات جاری کیے۔ اس کے ساتھ ساتھ ایم ڈی اے کو یہ بھی ہدایت کی کہ مالکانہ حقوق کا رکارڈ اپڈیٹ کیا جائے، جبکہ سی ایم نے جس سمری کی منظوری دی اس میں ایسا کوئی ذکر نہیں تھا۔

26 دسمبر 2013 کے دن ہی ڈی جی ایم ڈی اے محمد سہیل نے سرکای اور نجی زمینوں کے تبادلے کی سمری تیار کی، جس کی ایم ڈی اے ایکٹ کے سیکشن 49 کی خلاف ورزی کرتے ہوئے صوبائی وزیر شرجیل میمن نے منظوری دی۔ اور اگلے دن 27 ڈسمبرشہید بینظیر بھٹو کی برسی والے دن اخبارات میں زمینوں کے تبادلے کا پبلک نوٹس جاری کروایا گیا۔ 1 جنوری 2014 کو بحریا ٹاؤن کے ملازمین نے زمینوں کے تبادلے کے لیے ایم ڈی اے کو درخواستیں جمع کرائیں اوران زمینوں کی ملیر کے اسسٹنٹ کمشنرز اور مختیارکاروں نے تصدیق کرکے رپورٹ ڈی جی ایم ڈی اے کو ارسال کی، اور 4 جنوری 2014 کو بحریا ٹاؤن نے اشتہارات شایع کراکے جگہ کی نشاندہی کردی۔

جبکہ قائم علی شاہ نے ساتھی ملزمان سے ساز باز کرتے ہوئے 12 جنوری 2016 کو اس "سمری” کی منظوری نہیں دی، جوبورڈ آف ریونیو کے رکن محمد وسیم کی جانب سے 26 دسمبر 2013 کو جاری نوٹیفکیشن کو منسوخ کرنے کے لیے تھی، جو سینئر ممبر احمد بخش ناریجو نے ایم ڈی اے ایکٹ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جاری کیا تھا۔ مزید برآں، وزیرِ اعلیٰ قائم علی شاہ نے محکمہ بلدیات کے سیکریٹری کو بدنیتی کے ساتھ ایک غلطی کے نوٹس کے اجرا کی ہدایت دی، جو ان کے اختیار میں نہیں تھا۔ شرجیل میمن، جو اس وقت ایم ڈی اے کے چیئرمین اور محکمہ بلدیات سندھ کے وزیر تھے، نے 24 جنوری 2014 کو بحریہ ٹاؤن کو سرکاری زمین دینے کی منظوری دی، انہوں نے 32 دیہوں کے ابتدائی منصوبے اور بحریہ ٹاؤن کراچی کے لے آؤٹ پلان کی بھی منظوری دی تھی، جو قانون کے خلاف تھا۔ 

 

ریفرنس میں کہا گیا ہے کہ سابقہ ممبر بورڈ آف روینیو احمد بخش ناریجو نے 26 ڈسمبر 2013 کو ایک نوٹیفکیشن جاری کیا، جس کے ذریعے حکومت کی زمین کا سروے اور روڈ نیٹ ورک کی تیاری کی ہدایت دی گئی تھی۔ نیب نے مزید کہا کہ ثاقب سومرو نے 24 جنوری 2014 کو ایک حکم جاری کیا، جس کے ذریعے 14,617 ایکڑ زمین بحریہ ٹاؤن کے حق میں الاٹ کی گئی، جبکہ جاوید حنیف نے 31 جنوری 2015 کو الاٹمنٹ کے خطوط جاری کیے، حالانکہ زمین پہلے ہی بحریہ ٹاؤن کے قبضے میں تھی۔ اسی طرح، محمد سہیل بابو نے 7,220 ایکڑ پر مشتمل نجی زمین کی ایڈجسٹمنٹ/ایکسچینج کی منظوری دی، جو عمل 2012 میں سپریم کورٹ کے دیے گئے حکم کی خلاف ورزی تھی۔ 

ریفرنس میں یہ بھی کہا گیا کہ اس وقت کے ڈپٹی کمشنر ایسٹ اور دیگر حکومتی افسران نے مل کر 7,220 ایکڑ حکومت کی زمین بحریہ ٹاؤن کو منتقل کی۔ اور ایس بی سی اے کے سابقہ ڈی جی منظور قادر کاکا نے  "بحریہ ٹاؤن کراچی” میں بکنگ کی اجازت دی تھی، جو سندھ بلڈنگ کنٹرول آرڈیننس اور کراچی ٹاؤن پلاننگ ریگولیشنز کی خلاف ورزی تھی، اور آغا مقصود نے بحریہ ٹاؤن کراچی کے غیر قانونی اشتہار کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی۔

جبکہ ملیر کی 19 دیھوں میں زمینوں پر قبضے کا جواز بنا کر اس وقت کے سیکریٹری لینڈ یوٹیلائیزیشن جاوید حنیف نے جلدبازی میں 21 جنوری 2014 کو 14 ہزار 617 زمین ایم ڈی اے کو الاٹ کر دی، یہ سب اتنی جلدبازی میں کیا گیا کہ سپریم کورٹ کے احکامات بھی نظرانداز کیے گئے۔ اوردو دن بعد جاوید حنیف نے تبادلا کرا لیا۔ 3 دن بعد نئے سیکریٹری ایل یو ثاقب سومرو نے کام آگے بڑھایا اور ایم ڈی اے کے حق میں سمری منظور کی۔

ملزم قاضی جان محمد، مختیار ابڑو، عبدالرحمان ڈہر، اقبال میرانی، سہیل میمن، طفیل خاصخیلی، میر محمد اور شکیل رانا نے بطورروینیو افسر ملیر سرکاری زمین کے رکھوالے تھے مگر وہ دیگر ملزمان کے ساتھ مکمل رابطے میں تھے اور 7220 ایکڑ زمین ایڈجسٹمنٹ/ایکسچینج/کنسولیڈیشن کے نام پر بحریا ٹاؤن کو دلانے میں پیش پیش رہے۔

26 جنوری 2014 کو بحریا ٹاؤن نے اپنے منصوبے کی میڈیا کیمپین کے ذریعے لکیشن بتائی، اور وہ وہی لکیشن تھی جو زمین ایم ڈی اے کو کچھ دن پہلے الاٹ کی گئی تھی۔ ملزموں نے ایک دوسرے سے سازباز کرکے غیرقانونی طریقے سے بحریا ٹاؤن کے ملازمین فیصل سرور قریشی، شاہد مسعود قریشی، وقاص رفعت، وسیم رفعت اور محمد اویس کو 7،220 ایکڑ زمین الاٹ کی۔ اور یہ ساراغیرقانونی کام "ایڈجسٹمنٹ/ایکسچینج/کنسولیڈیشن” کے نام پر کیا گیا۔

ریفرنس کے مطابق بحریا ٹاؤن انتظامیہ کو سپریم کورٹ نے 1 جنوری 2016 کو ایک حکنامی میں 12،156 ایکڑ کے سوا منصوبے کو بڑھانے سے روک دیا تھا مگر انتظامیا نے سپریم کورٹ کے اس حکمنامے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے 25 ہزار 601 ایکڑ زمین پر قبضا کر لیا۔ جس میں سے 23،936 ایکڑ اراضی ملیر اور 1،664 ایکڑ اراضی جام شورو ڈسٹرکٹ میں واقع ہے۔

سپریم کورٹ احکامات کی خلاف ورزی، 7 ہزار ایکڑ پر مزید قبضا!

سپریم کورٹ آف پاکستان نے بحریا ٹاؤن کی 2019 میں دائر کی گئی درخواست پر 21 مارچ 2019 کے حکمنامی میں بحریا ٹاؤن کو حکومت کی 16،896 ایکڑ اراضی کے 460 ارب روپے ادا کرنے کا حکم دیا۔ اور جن افراد کو اس اراضی سے باہر پلاٹ الاٹ کیے تھے ان کو بھی اسی 16 ہزار ایکڑ اراضی میں ایڈجسٹ کرنے کا حکم دیا تھا۔

سپریم کورٹ کے احکمات کے تحت حکومت سندھ نے بحریا ٹاؤن کی دوبارہ سروے کی اور حکومت سندھ نے جو رپورٹ عدالت میں جمع کرائی اس میں بحریا ٹاوں کو دی گئی اراضی 19 ہزار 931 ایکڑ بتائی گئی، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ بحریا ٹاؤن نے 16 ہزار 986 ایکڑ زمین سے تجاوز کیا ہے۔ حکومت سندھ کی سروے رپورٹ کے مطابق بحریا ٹاؤن کے قبضے میں 17 ہزار 709 ایکڑ زمین ہے، جس میں 775 ایکڑ سرکاری زمین ملیر اور 37 ایکڑ نجی اور 2،222 ایکڑ سرکاری زمین جام شورو میں اضافی ہے۔

نیب کے مطابق بحریا ٹاؤن کو عدالتی فیصلے کے تحت مارک اپ کے ساتھ اقساط میں سے 166 ارب روپے جمع کرانے تھے مگر ابتک صرف 24 ارب روپے جمع ہوئے ہیں، جبکہ بحریا ٹاؤن انتظامیہ 7،220 ایکڑ ایراضی پر مزید قبضا کر چکی ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ کے ہیلی کاپٹر اور جیٹ جہاز کا بے جا استعمال، سالانہ 93 کروڑ خرچہ!

میں نانا بن چکا ہوں, اس سوال کو ڈیلیٹ کردیں,سونالی باندرے سے متعلق سوال پر آفریدی کا ردعمل

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے