حیدرآباد میں انسداد دہشت گردی کی عدالت نے سندھی شاعر آکاش انصاری قتل کیس کے مرکزی ملزم کو 4 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا۔
بھٹائی نگر تھانے کے ایس ایچ او کے مطابق پولیس کی درخواست پر ملزم کا 4 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کیا گیا، مرحوم ڈاکٹر آکاش انصاری کے لے پالک بیٹے شاہ لطیف کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کیا گیا تھا۔
مرحوم شاعر محمد انصاری کے رشتہ دار کی شکایت پر فرسٹ انفارمیشن رپورٹ (ایف آئی آر) پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 302، اور دفعہ 201 کے علاوہ انسداد دہشت گردی ایکٹ (اے ٹی اے) 1997 کی دفعہ 7 کے تحت لے پالک بیٹے ابراہیم جان ولد یار کے خلاف درج کی گئی۔
واضح رہے کہ 15 فروری کو سندھی زبان کے مزاحمتی شاعر، لکھاری، سیاسی و سماجی رہنما ڈاکٹر آکاش انصاری گھر میں لگی آگ میں جھلس کر جاں بحق ہوگئے تھے۔
ابتدائی طور پر رپورٹ کیا گیا تھا کہ حیدرآباد کی سوسائٹی ہیپی ہوم میں ڈاکٹر آکاش انصاری کے گھر میں شارٹ سرکٹ سے آگ لگ گئی، جس میں شاعر اور ان کے بیٹے شدید زخمی ہوئے تھے۔
17 فروری کو سندھ پولیس نے دعویٰ کیا تھا کہ گھر میں آگ لگنے سے جاں بحق ہونے والے سندھی زبان کے شاعر و لکھاری آکاش انصاری کو ان کے لے پالک بیٹے نے قتل کیا تھا۔
شاعر کے گھر میں آگ لگنے اور اس میں جھلس کر ان کے جاں بحق ہونے پر سندھ بھر کے شاعروں اور ادیبوں نے اظہار تشویش کرتے ہوئے ان کے لاش کا پوسٹ مارٹم کرنے کا مطالبہ کیا تھا جب کہ پولیس کو تفتیش کا دائرہ بڑھانے کی درخواست بھی کی تھی۔