قومی عوامی تحریک کی جانب سے سندھو دریا پر کینالز کی تعمیر کے خلاف شروع کی گئی احتجاجی تحریک کے سلسلے میں سندھ کے مختلف شہروں میں ریلیوں، شارٹ مارچ، دھرنوں اور احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ گذشتہ دوماہ سے مسلسل جاری ہے۔
کراچی
قومی عوامی تحریک کے سربراہ ایاز لطیف پلیجو کراچی سے حیدرآباد، جام شورو، کشمور، ٹھٹو، سانگھڑ، مٹیاری، میرپورخاص، بدین، دادو، میہڑ، واہی پاندھی اور جوہی سمیت دیگر شہروں میں احتجاجی مظاہروں اور ریلیوں میں شرکت کر چکے ہیں، جبکہ ان کی پارٹی کی جانب سے سندھ بھر کے شہروں میں احتجاج جاری ہے۔
کیو اے ٹی سربراہ ایاز لطیف پلیجو کی قیادت میں سندھو دریا پر 6 کینال بنانے، کارپوریٹ فارمنگ سمیت دادو کے علاقے کاچھو اور واہی پانڈی کی زمینوں پر قبضہ کے خلاف ہزاروں لوگوں کے ساتھ گاؤں دودو برہمانی سے پیادہ مارچ کیا گیا۔
احتجاجی مارچ میں شامل ہزاروں لوگوں نے واہی پانڈی شہر کے گورک موڑ پر دھرنا دیا، کینالز کی مخالفت میں سشت نعریبازی کی گئی۔ پیادل مارچ میں قومی عوامی تحریک ضلع دادو کے صدر ایڈووکیٹ میر کوسو، سومر چانڈیو، ایڈووکیٹ منور جتوئی، سندھیاںی تحریک کی امیر زادی برہمانی، عذرا رند، کشف سولنگی، روزینا جتوئی، گل بھار رستمانی، گل حسن برہمانی، باغی بشیر برہمانی، ذوالفقار برہمانی، امین وگھیو، قربان کوکر، ہارون پنھور اور دیگر رہنما شریک تھے۔
مارچ سے خطاب کرتے ہوئے ایاز لطیف پلیجی نے کہا کہ چولستان سمیت 6 نئے کینالز سندھ پر حملہ ہیں۔ اگر سندھو دریا خشک ہو گیا تو لاکھوں، کروڑوں لوگ بھوک، بدحالی اور تباہی کا شکار ہو جائیں گے۔ کارپوریٹ فارمنگ منصوبے سے زمینوں پر قبضے، مہنگائی اور معاشی بدحالی آئے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ تمام سندھ سراپا احتجاج ہے، چولستان میں کینال اور کارپوریٹ فارمنگ کے افتتاح کی مذمت کرتے ہیں۔ سندھ کو دیوار سے نہ لگائیں، سندھ فتح شدہ علاقہ نہیں ہے۔ ملک میں جمہوریت کے نام پر آمریت ہے۔ سندھ، بلوچستان اور کے پی میں احساس محرومی کے خطرناک نتائج نکلیں گے۔
انہوں نے کہا کہ وفاق اور سندھ حکومت طاقت کے نشے میں ملک کی بنیادوں کو کھوکھلا کر رہی ہیں۔ کارپوریٹ فارمنگ کے نام پر کاچھے، واہی پاندھی اور گورک سمیت سندھ کی زمینوں پر قبضے کیے جا رہے ہیں۔ سندھو دریا کا پانی روکنے سے سندھ کی زراعت اور زندگی ختم ہو جائے گی۔
انہوں نے یہ بھہ کہا کہ سندھ سمیت دنیا بھر کے 10 کروڑ سندھی اپنے سندھو دریا کو بچانے کے لیے خون کے آخری قطرے تک لڑیں گے۔ کارپوریٹ فارمنگ کے نام پر سندھ کی ہزاروں ایکڑ زمینوں پر قبضہ کر کے سندھ کے لوگوں کو اپنی زمین سے بے دخل کرنے کی سازش ہے۔ گرین پاکستان منصوبہ سندھ کی زمینوں پر قبضے کا منصوبہ ہے۔
ایاز لطیف نے کہا کہ آصف زرداری ایوان صدر میں بیٹھ کر اپنے بیٹے کو وزیر اعظم بنانے کے لیے سندھو دریا، لاکھوں ایکڑ زمین اور دیگر وسائل بیچ رہا ہے۔ سندھ اسمبلی کے 170 ایم پی اے کیوں خاموش ہیں؟ چولستان کو آباد کرنے کے لیے سندھو دریا سے 176 کلومیٹر طویل کینال نکالنا سندھ کے خلاف سازش ہے، پنجاب ڈیڑھ سو سال سے سندھ کے پانی پر ڈاکہ ڈال رہا ہے، اور کالاباغ ڈیم کی مخالفت کرنے پر کینالز بنا کر پنجاب سندھ سے بدلہ لے رہا ہے۔
