تھر میں آسمانی بجلی گرنے کے واقعات کیوں بڑھ رہے ہیں؟

کراچی

 ماہرین نے تھرپارکر میں بجلی گرنے کے واقعات کو موسمیاتی تبدیلی قرار دے دیا ہے، جبکہ تھرپارکر میں کوئلے کی کھدائی کو بھی ماحول کو آلودہ کرنے کا ایک اہم سبب سمجھا جا رہا ہے۔

ایسوسی ایشن فارواٹر اپلائیڈ ایجوکیشن اینڈ رنیوابل انرجی نے اپنی اسٹڈی رپورٹ میں بتایا ہے کہ سندھ کے ضلعہ تھرپارکر میں 2019 سے 2021 تک آسمانی بجلی گرنے کے واقعات میں 98 انسان اور 1765 مختلف جانورہلاک ہو چکے ہیں۔ جبکہ سماجی تنظیم پرائیڈ کی جانب جاری کی گئی اسٹڈی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تھرپارکر میں بجلی گرنے کے واقعات میں کوئلے کی کھدائی سے پیدا ہونے والی آلودگی کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

ریسرچر مهوش لغاری اور امارا اسلم کی جانب سے کی گئی اسٹڈی کے دوران تھرپارکر میں بجلی گرنے کے واقعات، تھرکول پاور پلانٹس اور کوئلے کی کھدائی کے حوالے سے مقامی لوگوں، ماہرین موسمیات اوراین ڈی ایم اے کے ذمہ داروں سے بھی آراء حاصل کی گئیں۔

اسٹڈی میں شامل تھرپارکر کے باسیوں کو یقین ہو گیا ہے کہ آسمانی بجلی گرنے کے پیچھے تھرکول منصوبا ہے، کیوں کہ اس سے قبل یہ واقعات بہت ہی کم ہوا کرتے تھے۔

پاکستان میٹرولوجسٹ ڈیپارٹمنٹ کے چیف میٹرولوجسٹ ڈاکٹر محمد افضل نے بجلی گرنے کے واقعات کو براہ راست گرین ہاؤس گیسوں سے منسلک نہیں کرتے بلکہ انہیں غیر مستقیم طور پر ماحول کی آلودگی اور بارشوں سے جوڑتے ہیں۔ اسی طرح این ڈی ایم اے کے ماہر ڈاکٹر طیب شاہ بھی ماحول کی آلودگی کو بنیادی سبب تسلیم کرتے ہیں۔

پرائیڈ نے فلوریڈا اسٹیٹ یونیورسٹی امریکہ کی ماحولیاتی ماہراونا اسٹرائکس سے بھی رابطہ کیا، جن کی تحقیق کے مطابق امریکی ریاست جارجیا میں بجلی گرنے کے اکثر واقعات کول مائننگ اور بھاری ٹریفک والی سڑکوں پر وقوع پذیر ہوتے ہیں اور ان کی تحقیق کے مطابق بجلی گرنے کا سبب کوئلے کی کھدائی سے پیدا ہونے والی آلودگی ہے۔ پرائیڈ نے اپنی اسٹڈی میں حکومت سے اپیل کی ہے کہ بجلی گرنے کے اسباب کو جانچنے کے لیے عالمی ماہرین سے تحقیق کرائی جائے۔

پرائیڈ کی جانب سے کی گئی اسٹڈی کی لانچنگ تقریب میں تھرپارکر کے مقامی لوگوں اور اسٹڈی میں شریک افراد نے بھی شرکت کی اور نشاندہی کی کہ تھرپارکر میں کوئلے کی کھدائی کے بعد بجلی گرنے کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ تقریب میں پی ایم ڈی کے چیف میٹرولوجسٹ ڈاکٹر سردار سرفراز نے کہا کہ ہمارے پاس تھرپارکر کا ڈیٹا موجود نہیں ہے، مگر موجودہ واقعات کو مدنظر رکھتے ہوئے بجلی گرنے کے واقعات میں 10 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

 ضياءُ الدین یونیورسٹی کراچی کے ڈائریکٹر ڈاکٹر ذوالفقارعمراڻي نے کہا کہ امریکہ میں کی گئی تحقیق کے مطابق بجلی گرنے کے واقعات میں کوئلے کی کھدائی کا کردار ہے اور یہ بات واضح ہے کہ کوئلے کی کھدائی اور کوئلے سے چلنے والے پاور پلانٹس کی وجہ سے آلودگی پیدا ہوتی ہے، تو پھر حکومت توانائی کے متبادل ذرائع جیسے سولر، ونڈ اور اٹامک انرجی کی بجائے کوئلے کو کیوں کھود رہی ہے؟ کچرے سے بھی بجلی تیار کی جا سکتی ہے، دیگر ذرائع بھی موجود ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ بجلی گرنے کے واقعات کی وجہ سے نہ صرف جانور بلکہ انسان بھی مر رہے ہیں۔

 پی ڈی ایم اے کے نمائندے امداد صدیقی نے بتایا کہ بجلی گرنے کے واقعات کی وجہ سے تھرپارکر میں 2022 میں 6، 2023 میں 4 اور 2024 میں 14 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

تھرپارکر کے سابق ایم پی اے دوست محمد راہمون نے کہا کہ گزشتہ 5 سالوں کے دوران بجلی گرنے کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے، جبکہ پہلے اتنے واقعات نہیں ہوتے تھے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ پہلے تھر میں بارش پر خوشیاں مناتے تھے، مگر اب بارش دیکھ کر خوفزدہ ہو جاتے ہیں۔

 ایم پی اے قاسم سراج سومرو نے تھرکول کو بجلی گرنے کے واقعات سے منسلک کرنے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ بھارت میں ایسے واقعات زیادہ ہوتے ہیں۔ جرمنی میں کوئلے کی دوبارہ کھدائی شروع کر دی گئی ہے۔ مگر یہ سچ ہے کہ بجلی گرنے سے مجھے بھی ڈر لگتا ہے۔ انہوں نے پی ڈی ایم اے کے اعداد و شمار کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ تھرپارکر،عمرکوٹ اور کھپرو میں بھی بجلی گرنے کی وجہ سے زیادہ لوگ ہلاک ہوئے ہیں۔

بحرحال ماہرین موسمیات اور دیگر ریسرچرز اس بات پر اتفاق کرتے ہیں کہ کوئلے کی کھدائی آلودگی کا ایک اہم سبب ہے اور آسمانی بجلی گرنے کے واقعات میں اضافہ آلودگی کی وجہ سے ہے۔ مگر اس سلسلے میں مزید ریسرچ کی ضرورت ہے۔

سندھی ہونے پر فخر ہے۔ کیارا آڈوانی

بغیر پورا چہرا دکھائے لاکھوں فالوئرز بنانے والی لڑکی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے